اسرائیلی پارلیمان میں اذان اور نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازع بل منظور

جمعرات 2 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) نے مساجد میں اذان اور نماز کی ادائیگی کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا ایک انتہائی متنازع بل ابتدائی مرحلے میں منظور کر لیا ہے۔ اس اقدام پر فلسطینی حکام نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

بل کی منظوری اور ووٹوں کی تفصیلات

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق 120 رکنی کنیسٹ میں رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 36 ووٹ ڈالے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:مذہبی اور مسلکی رواداری کے فروغ کے لیے علما کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، علامہ طاہر اشرفی

یہ بل اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی، ایتامار بن گویر کی قیادت میں کام کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’اوتزما یہودیت‘ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

حیرت انگیز طور پر اپوزیشن جماعت ’یسرائیل بیتینو‘ اور اس کے سربراہ آویگڈور لیبرمین نے بھی اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

قانون کے سخت ضوابط

اسرائیلی ٹی وی ’چینل 14‘ کے مطابق  اس مجوزہ قانون کے تحت اب کسی بھی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نصب کرنے یا صوتی نظام استعمال کرنے کے لیے حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔

بغیر سرکاری اجازت نامے کے کسی بھی قسم کے صوتی نظام کا استعمال غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حتمی قانون بننے سے قبل اس بل کو کنیسٹ میں مزید 3 مراحل سے گزرنا ہوگا۔

فلسطینی قیادت کا شدید ردعمل

فلسطینی نیشنل کونسل کے سربراہ روحی فتوح نے اس اسرائیلی اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک ’جرم‘  اور ’قانونی دہشتگردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سازی مسلمانوں کے عقیدے اور مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اذان کی افادیت پر اثرات

مذہبی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اذان کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو نماز کے اوقات سے باخبر کرنا ہوتا ہے، جو روایتی طور پر لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مزید پڑھیں:ٹونی بلیئر کون ہیں اور فلسطینی اتھارٹی کے نگران ’پیس بورڈ‘ کے لیے ان کا نام کیوں لیا جا رہا ہے؟

اگر اس پر پابندی عائد کی گئی تو اذان کی عملی افادیت شدید متاثر ہوگی اور یہ شعارِ اسلام صرف مسجد کی چاردیواری تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔

مذہبی آزادی بمقابلہ شور کی روک تھام

اس مجوزہ قانون نے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عوامی مقامات پر مذہبی شعائر کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بل کے حامی اصرار کر رہے ہیں کہ یہ اقدام محض ’شور کی روک تھام‘ کے لیے ہے، جبکہ مخالفین اور مسلم برادری کا مؤقف ہے کہ یہ ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی ایک منظم سیاسی کوشش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp