نئی آٹو پالیسی جولائی سے نافذ کرنے کا فیصلہ، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک لانے کی تجویز

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے ملک میں آٹو سیکٹر کی بہتری، عام شہریوں کو سستی گاڑیوں کی فراہمی اور الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے نئی آٹو پالیسی جولائی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت چھوٹی گاڑیوں کی قیمت 20 سے 25 لاکھ روپے تک لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں گاڑیوں کی قیمتوں، الیکٹرک گاڑیوں کے معیار، حکومتی سبسڈی اور صارفین کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے سیکریٹری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری کی سربراہی میں قائم آٹو پالیسی کمیٹی اپنی سفارشات جولائی تک مکمل کر لے گی، جس کے بعد نئی آٹو پالیسی نافذ کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی آٹو انڈسٹری کو مضبوط بنانا، درآمدی انحصار کم کرنا اور متوسط طبقے کو کم قیمت گاڑیوں کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کو بھی نسبتاً کم قیمت پر متعارف کرایا جائے گا۔ حکومت نے 2030 تک ملک بھر میں 3 ہزار جدید چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ الیکٹرک وہیکلز کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق رواں سال ملک میں ایک لاکھ 60 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور 12 ہزار 800 الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی گئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی حفیظ الدین نے وی نیوز کو بتایا کہ آٹو پالیسی کے حوالے سے وزارت یا حکومت نے تفصیلی بریفنگ نہیں دی ہے، ابھی پالیسی کے خدوخال واضح ہونا باقی ہیں معلوم ایسے ہو رہا ہے کہ حکومت 20 سے 25 لاکھ روپے تک کی نئی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرانے جا رہی ہے تاہم ابھی اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وقت درکار ہے۔

اجلاس میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور ان کی بیٹریوں کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ رکن کمیٹی محمد اقبال خان نے دعویٰ کیا کہ کئی الیکٹرک بائیکس ناقص معیار کی ہیں اور ان کی بیٹریاں صرف 6 ماہ کے اندر اپنی کارکردگی کھو دیتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کو کامیاب بنانا ہے تو عالمی معیار کے مطابق مینوفیکچرنگ اور کوالٹی کنٹرول کو یقینی بنانا ہوگا۔

رکن کمیٹی عبدالحکیم بلوچ نے بھی بیٹریوں کے ناقص معیار کی نشاندہی کی، جبکہ چیئرمین سید حفیظ الدین نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی 80 ہزار روپے کی حکومتی سبسڈی کی تقسیم پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سندھ کے شہری اس سہولت سے محروم ہیں، جبکہ بعض معاملات میں سبسڈی کی تقسیم غیر شفاف انداز میں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بعض ایسی فیکٹریوں کو بھی مینوفیکچرنگ کی اجازت دی گئی جو مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔

کمیٹی کے ارکان کے شدید احتجاج کے بعد غیر معیاری الیکٹرک موٹر سائیکلوں، ناقص بیٹریوں اور سبسڈی کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی گئی، جو تمام معاملات کی انکوائری کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اجلاس میں گاڑیوں کی بکنگ کے بعد رقم کی واپسی سے محروم صارفین کے مسئلے پر بھی پیشرفت سامنے آئی۔ پروٹون کمپنی کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی مداخلت کے بعد اب تک 93 فیصد متاثرہ صارفین کو ان کی ایڈوانس رقم واپس کر دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق مجموعی طور پر 816 صارفین کو ایک ارب 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی 7 فیصد کیسز میں قانونی اور تکنیکی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔

رکن کمیٹی مہرین بھٹو نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی مؤثر نگرانی اور سخت مؤقف کے باعث متاثرہ صارفین کو ریلیف مل سکا، جبکہ آئندہ بھی عوامی مفاد کے ایسے معاملات پر سخت نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے پی آئی اے کی اہم ایڈوائزری جاری

امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے

مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی

کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟

طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

ویڈیو

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے فیلڈ مارشل سے متعلق پروپیگنڈا، کشمیر پیپلز پارٹی کا، کیا ایسا ممکن ہوگا؟ پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا، عامر نواز وڑائچ

کالم / تجزیہ

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک