پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ، جولائی میں 417 ملین ڈالر کی آمد

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف جولائی میں ملک نے 417 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کی ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان میں بڑی مقدار ٹریڈ سرپلس پر مشتمل ہے اور اس کے لیے بھاری درآمدی مشینری درکار نہیں ہوتی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی کے شعبے میں مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے گوگل کے ساتھ جاری مختلف پروگرامز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اے آئی سیکھو 2026‘ پروگرام میں 17 ہزار سے زائد ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی، جن میں 25 فیصد خواتین شامل تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار ڈیولپرز کو گیمنگ اور اینیمیشن سمیت مختلف شعبوں میں تربیت دی گئی، جبکہ ایپس اور ایپ ڈیزائن سے متعلق ماسٹر کلاسز بھی منعقد کی گئیں۔ گوگل نے 120 کمپنیوں کو گیمنگ اور ڈیزائن کے شعبوں میں ماسٹر کلاسز فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ برس وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کروم بکس کی مقامی اسمبلی لائن کا افتتاح کیا تھا، جس کے بعد پاکستان میں کروم بکس کی مقامی سطح پر اسمبلی اور تیاری کا عمل شروع ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ان مصنوعات کی برآمد کے امکانات پر بھی کام کیا جائے گا۔

شزا فاطمہ نے بتایا کہ ’ڈیجیٹل سفر‘ کے تحت صحافیوں کو آن لائن سیفٹی سمیت مختلف موضوعات پر تربیت فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق گوگل کے ساتھ شراکت داری پاکستان کے ٹیک ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے، مقامی ٹیلنٹ کی صلاحیت بڑھانے اور عالمی ٹیک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری موجودگی کے لیے راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، خواتین کی مؤثر شمولیت ناگزیر ہے، شزا فاطمہ

انہوں نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں دفتر کھلنا ملک کے ٹیک ٹیلنٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے مقامی و عالمی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔

آئی ٹی برآمدات کے حوالے سے شزا فاطمہ نے کہا کہ جولائی میں 417 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے آئی ٹی برآمدات کی خاص اہمیت یہ ہے کہ ان میں تقریباً 85 سے 86 فیصد ٹریڈ سرپلس ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی برآمدات کے لیے عام طور پر بھاری مشینری درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس کے باعث اس شعبے سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp