کانگو میں ایبولا کی وبا بے قابو، متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کرگئی

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا سنگین صورت اختیار کرگئی، جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ وبا پر قابو پانے کی کوششیں مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں۔

کانگو میں ایبولا کی یہ 17ویں وبا ہے جو جولائی کے اواخر میں ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن گئی۔ سرکاری ادارے کے مطابق وبا سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 2 ہزار 378 ہوگئی ہے، جو 2018 سے 2020 کے دوران سامنے آنے والی سابقہ بدترین وبا میں ہونے والی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:کانگو میں ایبولا بے قابو، ہلاکتیں 1,300 سے تجاوز، وائرس جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگا

تازہ صورتحال رپورٹ کے مطابق کانگو کے پبلک ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ نے اب تک 5 ہزار 21 کیسز ریکارڈ کیے ہیں، جس کے بعد یہ دنیا میں کیسز اور ہلاکتوں کے اعتبار سے دوسری بدترین ایبولا وبا بن گئی ہے۔ اس سے قبل 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا کو دنیا کی بدترین وبا قرار دیا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق موجودہ وبا بنڈی بگيو نسل کے ایبولا وائرس کے باعث پھیلی ہے، جس کے خلاف فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں۔

کانگو میں موجودہ وبا کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد سے وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے۔ کمزور طبی و صحت کا بنیادی ڈھانچہ، مقامی آبادی کی جانب سے مزاحمت، سیاسی و سماجی عدم استحکام اور وبا کے خلاف کام کرنے والے کارکنوں کے احتجاج نے متاثرہ افراد کی بروقت نشاندہی اور علاج و روک تھام کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایبولا کے خلاف امید کی نئی کرن، 50 رضاکاروں پر ویکسین کے ٹرائل کا آغاز

صحت کے حکام کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں نگرانی، مریضوں کی شناخت اور رابطوں کا سراغ لگانے کے اقدامات جاری ہیں، تاہم موجودہ حالات میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp