امریکا کی پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت، دہشتگرد حملوں کے خلاف کارروائیوں کو جائز قرار دیا

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا دہشتگرد حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے، جبکہ پاکستانی عوام نے برسوں سے دہشتگردی کے باعث بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کر گئی۔ 26 فروری 2026 کو افغان فورسز کی جانب سے مبینہ سرحد پار حملوں کے بعد پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا، جس کے تحت افغانستان میں شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کی گئیں۔

مزید پڑھیں:عالمی فوجداری عدالت نے طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

سرحدی کشیدگی کے باعث طورخم، چمن اور دیگر سرحدی راستے گزشتہ برس 13 اکتوبر سے بند ہیں، جبکہ فی الحال صرف افغان پناہ گزینوں کو پاکستان سے افغانستان واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کوئی نیا نہیں۔ اکتوبر 2025 میں بھی دونوں جانب کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جبکہ فروری 2026 میں ہونے والی لڑائی کو حالیہ برسوں کی بدترین سرحدی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغان سرحدی علاقوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوئے، جبکہ افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستانی حدود میں فضائی حملے کیے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی افواج نے بلوچستان میں 4 ڈرون مار گرائے۔

پاکستان، جو ایک ایٹمی طاقت اور امریکا کا اہم غیر نیٹو اتحادی ہے، کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان سے بھیجے گئے 4 ڈرونز تباہ، پاکستان نے طالبان کو خبردار کر دیا

گزشتہ ماہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد بار رابطے کیے، تاہم وہ اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

پاکستان مسلسل یہ مؤقف دہراتا آ رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان سے دراندازی کرکے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود چین کی ثالثی میں کئی ادوار کی سفارتی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور دھچکا، امریکی اپیل کورٹ نے تارکینِ وطن کے حق میں اہم فیصلہ سنا دیا

وزیراعظم شہباز شریف آج ایران کا دورہ کریں گے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں، باہمی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا

دانہ سر بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق، 8 زخمی

’لاہور میں ہماری بہترین مہمان نوازی کی گئی‘ عمران ہاشمی نے پاکستانیوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

ویڈیو

کوئٹہ: گرمی کا توڑ کابلی آئس کریم کی خاص بات کیا ہے؟

بلوچستان سانحہ: گوگل پر مکمل انحصار خطرناک، دور دراز علاقوں میں آف لائن میپس اور ذاتی فیصلہ کیوں ضروری؟

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن کا بنیادی ستون، بھارت یکطرفہ طور پر اسے معطل نہیں کر سکتا، احمر بلال صوفی

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو