بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

جمعرات 2 جولائی 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے خلاف بھارت کی آبی جارحیت کے تین پہلو ہیں:

 پہلا یہ کہ اس نے پاکستان کے حصے کا وہ پانی روکا ہے جو بھارت سے بہہ کر پاکستان آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اس نے پاکستان کے حصے کا وہ پانی بھی روکنا شروع کر دیا ہے جو بھارت سے نہیں آتا بلکہ مقبوضہ کشمیر سے آتا ہے جہاں بھارت ناجائز طور پر قابض ہے۔ اور تیسرا یہ کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے پانی سے پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کو بھی محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔

 ہمارے ہاں پہلے نکتے پر تو بات ہو رہی ہے لیکن دوسرا اور تیسرا پہلو نظر انداز ہو رہا ہے حالانکہ اس کی سنگینی اور معنویت بہت زیادہ ہے اور یہ بھارت  پر جنگی جرائم کے حوالے سے ایک مکمل فرد جرم ہے۔

جس پہلو پر بات ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ یا معطل نہیں کر سکتا۔ معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو بھارت کو ایسا اختیار دے۔ نیز یہ کہ بھارت سے جو پانی بہتا ہوا پاکستان میں آتا ہے وہ بھارت کی ملکیت نہیں اور بھارت اس پانی کو نہیں روک سکتا۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو یہ انسانیت کے خلاف جرم، معاہدے سے انحراف اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی اور آفاقی عالمی اصولوں کی خلاف ورزی ہو۔

 جن دو  نکات پر بات نہیں ہو رہی، ان میں سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ بھارت نےصرف بھارت سے بہہ کر پاکستان آنے والے پانی کو نہیں روکنا شروع کیا بلکہ اس نے مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے پانی میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا علاقہ نہیں ہے۔ یہ مقبوضہ علاقہ ضرور ہے لیکن بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ بھارت یہاں پر قابض ضرور ہے لیکن وہ یہاں کی زمین  اور یہاں کے وسائل کا مالک نہیں ہے۔

ہیگ ریزولیوشن کے آرٹیکل 55 کے مطابق قابض طاقت مقبوضہ علاقے کی مالک نہیں ہو سکتی۔ اس کی حیثیت صرف ایک منتظم کی ہوتی ہے اور قابض طاقت معدنیات، پانی، جنگلات وغیرہ کو اگر مستقل بنیادوں پر استعمال میں لائے جس سے ان کی ہیئت ہی متاثر ہو جائے یا اپنے تجارتی مقاصد میں استعمال کرے تو یہ غیر قانونی ہو گا۔

بھارت اگر بھارت سے پاکستان آنے والے پانی کا مالک نہیں ہے اور اسے نہیں روک سکتا تو بھارت مقبوضہ کشمیر سے بہہ کر آنے والے پانی کا مالک کیسے بن سکتا ہے اور اسے کس قانون کے تحت روک رہا ہے؟

بین الاقامی قانون یہ کہتا ہے کہ جب تک ناجائز قبضہ جاری ہے تب تک جنگ جاری ہے اور اس دوران مقبوضہ جات کی آبادی کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو روم سٹیچیوٹ کے مطابق یہ جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

نظر انداز ہونے والا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بھارت جب مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے پانی کو روکتا ہے یا محدود کرتا ہے یا اسے ری ڈائرکٹ کرتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کو بھی اس کے پانی سے محروم کر دیتا ہے۔ گویا بطور ایک ناجائز قابض قوت کے وہ کشمیریوں کو، کشمیر کے ایک حصے کو،  اس علاقے کے شہریوں کو، ان کے قدرتی وسائل سے محروم کر دیتا ہے۔ یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کا جرم ہے۔

چوتھے جنیواکنونشن کے آرٹیکل47 میں لکھا ہے کہ قابض طاقت قانونی یا انتظامی اقدامات کے ذریعے مقامی آبادی کے حقوق نہیں چھین سکتی۔ اسی کنونشن کے آرٹیکل53 میں لکھا ہے کہ قابض ملک مقبوضہ علاقے کے وسائل کو اپنے معاشی اور ترقیاتی منصوبوں میں استعمال نہیں کر سکتا۔ یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ بھارت کشمیر کا پانی بھارت پہنچا دے یا بھارتی مقاصد کے لیے استعمال کرے اور کشمیریوں کو محروم کر دے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1962میں اپنی قرارداد نمبر 1803 میں یہ اصول طے کر دیا تھا کہ مقبوضہ علاقوں کے وسائل کی ملکیت مقبوضہ علاقوں کے عوام کے پاس ہے۔ قابض قوت کے پاس نہیں۔ نیز یہ کہ قابض ملک مقبوضہ علاقے کے لوگوں کی ان کے وسائل پر مستقل حق کی نفی نہیں کر سکتا۔ مقبوضہ علاقوں کے وسائل مستقل طور پر وہاں کے لوگوں کی ملکیت ہیں۔ بھارت جب مقبوضہ کشمیر سے آنے واالے پانی کو روک کر آزاد کشمیر کو اس پانی سے محروم کرتا ہے تو وہ ان تمام قوانی کو بھی پامال کرتا ہے۔

 اس ضمن میں جنرل اسمبلی کی 1973 کی قرارداد نمبر 3175 بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں قرار دیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں، قابض قوت کی جانب سے قدرتی وسائل کا استحصال غیر قانونی ہے اور ایسے اقدام کو بین الاقوامی قانون کی مبادیات کی پامالی تصور کیا جائے گا۔

روم سٹیچیوٹ آف انٹر نیشنل کرمنل کورٹ کے آرٹیکل 8 کی ذیلی دفعہ 2 بی کے تحت اسے لوٹ مار تصور کیا جائے گا اور یہ جنگی جرائم میں شمار ہو گا۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پانی اس کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس کے تمام پہلوؤں پر بات ہونی چاہیے ۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp