امریکا کی ایک وفاقی اپیل عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کے خلاف اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت کسی بھی تارک وطن کو 90 دن سے زیادہ عرصے تک بغیر ضمانت کی سماعت کا موقع دیے حراست میں نہیں رکھ سکتی۔ عدالت نے کہا کہ امریکی آئین ہر فرد کو، خواہ وہ شہری ہو یا غیر شہری، آزادی سے محرومی کی صورت میں قانونی سماعت کا بنیادی حق دیتا ہے۔
نیواورلینز میں قائم پانچویں امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے 3 رکنی بینچ نے 2 کے مقابلے میں ایک جج کی اکثریت سے یہ فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے ٹیکساس، لوزیانا اور عدالت کے دائرہ اختیار میں آنے والی دیگر ریاستوں میں زیر حراست ہزاروں تارکینِ وطن پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کریک ڈاؤن مہم کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسی عدالت کے ایک مختلف بینچ نے رواں برس فروری میں وفاقی امیگریشن قانون کی ٹرمپ انتظامیہ کی نئی تشریح کو ابتدائی طور پر درست قرار دیا تھا، جس کے مطابق صرف سرحد پر آنے والے افراد ہی نہیں بلکہ امریکا میں پہلے سے مقیم بعض غیر شہری بھی ’داخلے کے درخواست گزار‘ تصور کیے جا سکتے ہیں اور انہیں لازمی حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم
تاہم فروری کے فیصلے میں اس بنیادی آئینی سوال پر غور نہیں کیا گیا تھا کہ آیا امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت ایسے افراد کو بھی اپنی رہائی کے لیے امیگریشن عدالت میں ضمانت کی سماعت کا حق حاصل ہے یا نہیں۔
اکثریتی فیصلہ تحریر کرنے والے سرکٹ جج لیزلی ساؤتھ وِک نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ 2001ء کے اپنے فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ آئین کی ’ڈیو پروسیس‘ شق امریکی حدود میں موجود ہر شخص کو تحفظ فراہم کرتی ہے، خواہ وہ امریکی شہری ہو یا غیر شہری۔
انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ امریکی آئین کی تاریخی عظمت یہی ہے کہ وہ ملک کی حدود میں موجود کسی بھی فرد کو بنیادی حقوق سے مستثنیٰ قرار نہیں دیتا، اور اگر کسی کی آزادی سلب کی جائے تو اسے اپنی بات سنانے کا حق ضرور حاصل ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ جج کوری ولسن نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ اکثریتی فیصلہ امیگریشن سے متعلق معاملات میں کانگریس کو حاصل آئینی اختیارات کو کمزور کرتا ہے۔
امریکن امیگریشن کونسل کی وکیل ربیکا کیسلر، جو متاثرہ تارکینِ وطن کی نمائندگی کر رہی تھیں، نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اس بنیادی آئینی اصول کی توثیق کی ہے کہ حکومت کسی بھی شخص کو غیر معینہ مدت تک بغیر عدالتی نگرانی کے قید نہیں رکھ سکتی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ داخلی سلامتی (Department of Homeland Security)، جو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی نگرانی کرتا ہے، نے عدالتی فیصلے پر فوری طور پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے غیر قانونی تارکین وطن کی امریکا بدری، ڈونلڈ ٹرمپ کا فوج کی مدد لینے کا فیصلہ
وفاقی امیگریشن قانون کے تحت امریکہ میں داخلے کے خواہش مند افراد کو ان کے مقدمات کے فیصلے تک لازمی طور پر حراست میں رکھا جا سکتا ہے اور انہیں عام طور پر ضمانت کی سماعت کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
تاہم گزشتہ برس محکمہ داخلی سلامتی نے قانون کی ایک نئی تشریح اختیار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ امریکہ میں پہلے سے مقیم بعض غیر شہری بھی “داخلے کے درخواست گزار” تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں بھی لازمی حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
بعد ازاں امریکی محکمہ انصاف کے ماتحت بورڈ آف امیگریشن اپیلز نے ستمبر میں اس تشریح کی توثیق کر دی، جس کے بعد ملک بھر کے امیگریشن ججوں نے متعدد مقدمات میں لازمی حراست کے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے۔
امریکی وفاقی اپیل عدالتوں میں اس قانونی تشریح پر اختلاف پایا جاتا ہے، جس کے باعث ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر حتمی اور ملک گیر فیصلہ صادر کرے۔














