خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک مسافر بس حادثے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد حکومت بلوچستان نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حادثے کی شکار بس میں اپنے مسافروں کے علاوہ ایک خراب ہونے والی دوسری مسافر بس کے مسافر بھی سوار تھے، جس کے باعث گاڑی میں معمول سے زیادہ افراد موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: لسبیلہ میں المناک ٹریفک حادثہ، 9 افراد جاں بحق
شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ان کے اسٹاف افسر سید امین نے فوری طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ سے رابطہ کیا، جس کے بعد ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق افراد کی شناخت، زخمیوں کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان حادثے کی مکمل تحقیقات کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ اداروں کو فوری ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی، ریسکیو ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: لسبیلہ میں المناک ٹریفک حادثہ، 9 افراد جاں بحق
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایف آر درازندہ کی امدادی ٹیمیں ایمرجنسی سروسز ژوب کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی اہلکاروں نے 8 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد ڈی ایچ کیو ہسپتال ژوب منتقل کیا، جبکہ 40 جاں بحق افراد کی میتوں کو بھی مشترکہ کارروائی کے ذریعے ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچایا۔
ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ اگر جاں بحق افراد میں خیبر پختونخوا کے شہری شامل ہوئے تو ان کی میتیں ایمبولینسوں کے ذریعے باعزت طور پر ان کے آبائی علاقوں تک منتقل کی جائیں گی۔














