استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ اگر استحکام پاکستان پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو عوام کی محرومیاں دور کریں گے، آزاد کشمیر کے فیصلے آزاد کشمیر میں ہوں گے، کشمیری عوام کی محرومیوں کا خاتمہ، معیاری تعلیم، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور شفاف طرز حکمرانی ان کی جماعت کی اولین ترجیحات ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کیے جائیں گے اور کشمیری عوام کی خواہشات اور مفادات کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بہن بھائیوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے گا اور آزاد کشمیر کے ایک بھی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ محض دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے عوام کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ اگر استحکام پاکستان پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو میرٹ، شفافیت اور عوامی خدمت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی حکومت میں کرپشن ہوئی تو وہ خود اس کی ذمہ داری قبول کریں گے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ انتخابی نتائج کو جمہوری انداز میں قبول کریں، کامیابی پر شائستگی اور شکست پر برداشت کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ برسوں اقتدار میں رہنے والی جماعتیں آج بھی عوامی محرومیوں کی ذمہ دار ہیں۔ جو جماعتیں دو، دو اور تین، تین بار حکومت میں رہیں، انہیں دوسروں سے سوال کرنے کے بجائے اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں استحکام پاکستان پارٹی نے مضبوط امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور انہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے سرگرمیاں جاری، 4 آزاد ارکان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
انہوں نے وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ انہیں وزارت مواصلات پر مکمل توجہ دینے کا موقع دیا جائے تاکہ ملک کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جدید شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے۔ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے منصوبے جاری ہیں جبکہ سکھر، کراچی موٹروے کو بندرگاہ سے منسلک کیا جا رہا ہے اور اس منصوبے پر رواں سال کام شروع ہوگا۔
عبدالعلیم خان نے بتایا کہ لاہور، سیالکوٹ موٹروے کو 4 کے بجائے 6 رویہ بنایا جا رہا ہے جبکہ لاہور، سیالکوٹ، کھاریاں، اسلام آباد موٹروے کی تعمیر بھی جاری ہے، جس سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان تقریباً 100 کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، مری ایکسپریس وے کو کوہالہ اور مظفرآباد تک توسیع دی جائے گی جبکہ مظفرآباد کو مانسہرہ سے بھی جدید شاہراہ کے ذریعے منسلک کیا جائے گا، جس سے آزاد کشمیر کے عوام کو محفوظ، تیز رفتار اور معیاری سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے ملک کے مفاد میں ہیں، مخالفت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینا ہوگا، عبدالعلیم خان
صدر استحکام پاکستان پارٹی نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا روشن مستقبل ہیں، انہیں تعلیم اور محنت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ کے عوام کئی دہائیوں تک بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم رہے، حیدرآباد، سکھر موٹروے 30 سال تک نہ بن سکی، لیکن آج وہی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں جنہوں نے اپنے ادوار میں عوامی مسائل حل نہیں کیے۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی قیادت میں مختلف سیاسی شخصیات نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ شمولیت اختیار کرنے والوں میں ڈاکٹر سردار ظفر اقبال، سردار مرتضیٰ علی احمد، سردار عبدالجبار مغل، عامر نعیم، سید افتخار حسین شاہ، شجاع منگول ایڈووکیٹ اور چوہدری عبدالقدیر گجر بھی موجود تھے۔
سردار سجاد گل، حاجی افتخار مغل، فہیم مشتاق، راجہ قمر زمان، سردار مشل یونس، سید انعام گیلانی، خالد محمود، نعمان عثمان، حافظ احمد بٹ، سردار نزاکت منشاد، نعمان علی چغتائی، عاصم حمید، فرحان انور، نوید چوہدری، کرنل محبوب، علی خان سونی، ملک ذوالفقار، صاحبہ صدیق، ریاض گجر، طاہر کھوکھر، راجہ طالب، مرتضیٰ علی احمد، جبار مغل اور تقدیس گیلانی بھی تقریب میں شامل تھے۔
تقریب میں جی جی جمال، گل اصغر خان، شہزاد عزیز، فیاض الحسن چوہان، چوہدری ظہیر الدین خان، مخدوم طارق محمود الحسن، راجہ یاور کمال، سردار امیر ہارون، حمزہ مجید بازمی، ذوالفقار علی، ملک محمد یوسف، اعجاز احمد کھٹانہ، چوہدری محمد مقبول، محمد ندیم کھوکھر، چوہدری وقار نذیر ایڈووکیٹ، چوہدری ذوالفقار نور، احسان احمد، محمد عرفان چوہدری، عون چوہدری، رانا نذیر احمد خان، شعیب صدیقی، چوہدری رؤف احمد، ہارون گل اور میاں خالد محمود بھی موجود تھے۔














