قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا جعلی افسر بن کر مراعات اور پروٹوکول لینے والے گھوٹکی کے رہائشی عبد الواجد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق سندھ کے ضلع گھوٹکی کا رہائشی عبدالواجد خود کو قومی اسمبلی کا گریڈ 17 کا ملازم ظاہر کرتا رہا اور اس مقصد کے لیے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے نام سے جاری کیا گیا جعلی تقرری نامہ استعمال کرتا رہا، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی کے جعلی دستخط بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ اسکینڈل پر تحقیقاتی کمیٹی قائم
بیان کے مطابق ملزم نے خود کو قومی اسمبلی کا افسر ظاہر کر کے سرکاری حکام اور پولیس کو گمراہ کیا، مبینہ طور پر غیر قانونی مراعات اور پروٹوکول حاصل کیا۔
جبکہ مختلف طریقوں سے شہریوں کو ہراساں اور دباؤ کا نشانہ بھی بنایا، جس سے عوام میں تشویش پائی گئی۔
Speaker National Assembly, Sardar Ayaz Sadiq has taken strong notice of the misuse of the name of the National Assembly Secretariat through a forged appointment/offer letter and the alleged misuse of the official status of the National Assembly.
It has come to the notice of the… pic.twitter.com/ue3YGY6BVK
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) July 4, 2026
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ عبدالواجد کا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی میں اس کی تقرری یا ملازمت کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔
اس کے زیر استعمال تقرری نامہ مکمل طور پر جعلی ہے اور اس کی کوئی قانونی یا سرکاری حیثیت نہیں۔
مزید پڑھیں: جعلی فٹبال ٹیم جاپان پہنچا دینے کا معاملہ، ڈی پورٹ ہونے والے 22 ’کھلاڑی‘ گرفتار
اسپیکر قومی اسمبلی کی ہدایت پر قائم مقام سیکریٹری قومی اسمبلی نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل اور سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو باضابطہ خطوط ارسال کیے۔
جن میں عبدالواجد کے خلاف قانونی کارروائی، جعلی تقرری نامے کے ماخذ کا سراغ لگانے، اس جعلسازی میں ملوث دیگر افراد کی نشاندہی کرنے اور متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی۔
مزید پڑھیں: سماجی کارکن صارم برنی کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ملزم کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
جبکہ جعلی تقرری نامے کی تیاری اور اس میں ملوث دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔














