احسن بھون کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک ٹھپہ لگا ہوا ہے کہ میرے اندر کا وکیل کبھی نہیں نکلتا۔ ایک روز سینئر سیاست دانوں کی میٹنگ تھی، جس میں تمام سیاسی قیادت اور وزیراعظم بھی موجود تھے۔ میں وکلا برادری سے متعلق ایک معاملے پر بار بار زور دے رہا تھا تو وزیراعظم نے کہا، 'تارڑ صاحب! آپ کے… pic.twitter.com/KAtBNSdgL3
— WE News (@WENewsPk) July 4, 2026
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام ججز قابل احترام ہیں، تاہم یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے، اس لیے جب تنخواہیں اور مراعات یکساں ہیں تو کارکردگی بھی یکساں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں احتساب اور کارکردگی کا مؤثر نظام وقت کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ججز کی تعیناتی کا عمل شفاف، میرٹ پر مبنی اور آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہے اور تمام اداروں کو اسی اصول کے تحت کام کرنا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر سپریم کورٹ سمیت مختلف بارز نے تعاون کیا، جبکہ 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر نہیں لائی جا رہی، تاہم تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد اسے متعارف کرایا جائے گا۔
انہوں نے وکلا کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کہا کہ اس سلسلے میں پنجاب کے وزیر صحت سے بات ہو چکی ہے اور وکلا کو جلد صحت کارڈ کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: مل بیٹھ کر بات کرنا اور سیاست کو انتقام سے نکالنا ہوگا: وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ
اس کے علاوہ انہوں نے بار ووکیشنل کورس کے لیے 20 ملین روپے کی گرانٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے بار ووکیشنل ٹریننگ پروگرام مکمل کرنے والے وکلا کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت مضبوط عدالتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اپنے خطاب کے دوران وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ان پر ہمیشہ یہ ’ٹھپہ‘ لگا رہا ہے کہ ان کے اندر کا وکیل کبھی نہیں نکلتا۔













