ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف خطے کے ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے، جبکہ اسرائیل کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ناکام بنانے یا خطے کو دوبارہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ہفتے کے روز استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا کوئی بھی حل اس وقت تک دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اسے خطے کے ممالک کی حمایت اور تعاون حاصل نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’بارود سے اڑا دینے‘ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
#MiddleEast: Turkish President #Erdogan said on Saturday that Middle East peace efforts could not succeed without regional backing and that #Israel must not be allowed to "dynamite" the #US–#Iran peace deal.https://t.co/J16FNcbuNH
— LBCI Lebanon English (@LBCI_News_EN) July 4, 2026
الجزیرہ کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اسرائیلی حکومت کی ان کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جن کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت جنگی پالیسی پر گامزن ہے اور اسے دوبارہ پورے خطے کو خونریزی اور بارود کی لپیٹ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صدر اردوان اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر اسرائیل پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے غزہ، لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں کی بھی بارہا مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان ترکیہ بحری تعاون اور عالمی بحری راستوں میں تبدیلی سے پاکستان کی معیشت کو کتنا فائدہ پہنچے گا؟
گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے وفود نے قطر میں بالواسطہ مذاکرات کیے تھے تاکہ حالیہ کشیدگی کے بعد مفاہمتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ تہران معاہدے کی خلاف ورزیوں سے متعلق واشنگٹن سے رابطے کے لیے ایک باضابطہ مواصلاتی چینل قائم کرے گا۔
Turkiye’s President Tayyip Erdogan has said that peace efforts in the Middle East could not succeed without regional backing, adding that Israel must not be allowed to “dynamite” the US-Iran memorandum of understanding.
🔗: https://t.co/BYQpDn2WO7 pic.twitter.com/a3rV1tzpuW
— Al Jazeera English (@AJEnglish) July 4, 2026
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام پر اتفاقِ رائے اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے حتمی معاہدے کا ٹائم فریم شامل ہے۔ تاہم معاہدے کی مختلف شقوں کی تشریح پر اختلافات کے باعث گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر جوابی حملے بھی دیکھنے میں آئے۔











