پاکستان کی خلائی تاریخ کا سنہرا باب، اپالو مشن میں پاکستانی کردار کی اندرونی کہانی

اتوار 5 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر خلائی سائنسدان طارق مصطفیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ناسا کے چاند پر انسان بھیجنے کے پروگرام میں تعاون کی اپیل پر مثبت جواب دینے والا دنیا کا پہلا ملک تھا۔

پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ 1961 میں انہیں نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے واشنگٹن طلب کیا، جہاں ناسا کے حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ  ای او 3 خلا میں روانہ، نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ

انہوں نے بتایا کہ امریکی خلائی ادارے کو اپالو پروگرام کے لیے بحرِ ہند کے خطے سے فضائی ماحول سے متعلق ڈیٹا درکار تھا، اس مقصد کے لیے ناسا نے تعاون کرنے والے ممالک کو تکنیکی معاونت اور تربیت کی پیشکش بھی کی۔

طارق مصطفیٰ کے مطابق اجلاس کے دوران انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام سے کہا یہ تو خواب کی تعبیر جیسا موقع ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی عمر صرف 27 برس تھی اور اجلاس کے چند ہی گھنٹوں بعد انہیں ناسا کے والوپس آئی لینڈ مرکز بھیج دیا گیا، جہاں انہیں راکٹ لانچنگ رینج قائم کرنے کے تقاضوں کا جائزہ لے کر اگلی صبح اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

مزید پڑھیں: خلائی شعبے میں بڑی پیشرفت، پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ صرف 9 ماہ بعد، 7 جون 1962 کو پاکستان نے سونمیانی سے اپنا پہلا ساؤنڈنگ راکٹ کامیابی سے لانچ کیا، جس سے حاصل ہونے والا فضائی ڈیٹا امریکا کے تاریخی اپالو مون مشن کی معاونت میں استعمال کیا گیا۔

انہوں نے اس غیرمعمولی کامیابی کا سہرا اس وقت کی فیصلہ کن قیادت، تربیت یافتہ سائنسی افرادی قوت اور نوجوان ماہرین کی اس ٹیم کو دیا، جس نے دن رات محنت کرکے انتہائی کم وقت میں یہ ہدف حاصل کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp