روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج کی پیش قدمی نمایاں طور پر سست ہو گئی ہے، جبکہ صرف جون کے مہینے میں تقریباً 40 ہزار روسی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون اور میزائل حملوں نے روس کی عسکری اور لاجسٹک صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔
There Can Be No Peace Negotiations with an Army That Is Dying!
Russia is losing around 40,000 men every month in Ukraine while replacing almost none of them. Since November 2023, all of this bloodshed has allowed Moscow to occupy only 1.5% of Ukraine's territory. This is not a… pic.twitter.com/im1C8TDm6t
— Mykhailo Rohoza (@MykhailoRohoza) July 4, 2026
الجزیرہ کے مطابق روسی افواج کا ہدف رواں سال کے اختتام تک مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے کے باقی ماندہ حصے پر قبضہ کرنا ہے، تاہم واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار‘ کا کہنا ہے کہ روس کی زمینی پیش قدمی گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے۔
ادارے کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں روس نے تقریباً 2,190 مربع کلومیٹر علاقہ حاصل کیا تھا، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ پیشرفت صرف 622 مربع کلومیٹر تک محدود رہی۔
REPORTED: Russia’s advance collapses in Ukraine, with around 40,000 troops killed in June. Ukraine's long-range strikes have hit targets inside Russia, increasing anxiety in Moscow. pic.twitter.com/dZJxDYQJPQ
— War Alerts (@War__Alerts) July 3, 2026
رپورٹ کے مطابق جون میں روس کی اوسط پیش قدمی صرف ایک مربع کلومیٹر یومیہ رہی، جبکہ یوکرینی جوابی کارروائیوں کو شامل کیا جائے تو روس کا خالص علاقائی فائدہ صرف 97 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے تقریباً 14 لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ صرف جون میں روس کو تقریباً 39 ہزار 500 فوجیوں کا نقصان اٹھانا پڑا، جو اس کی ماہانہ بھرتی کی استعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین نے کوستیانتینیوکا پر روسی قبضے کا دعویٰ مسترد کر دیا
یوکرینی حکام کے مطابق گزشتہ مہینے روسی تنصیبات، تیل صاف کرنے کے کارخانوں، فوجی ہوائی اڈوں، مواصلاتی مراکز، گولہ بارود کے کارخانوں اور کریمیا میں بجلی کے سب اسٹیشنوں پر درجنوں حملے کیے گئے، جن سے روسی سپلائی لائنیں متاثر ہوئیں۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس اپنے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے، جبکہ کریملن نے ایک بار پھر امریکی ثالثی کے ذریعے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ماسکو نے یوکرین کی جانب سے پیش کی گئی بعض جنگ بندی تجاویز مسترد کر دی ہیں۔












