سندھ طاس معاہدہ: بھارت کی یکطرفہ کوششوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، عطا اللہ تارڑ

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی پر پاکستان کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے اور پانی ہماری بقا ہے جس کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ

ایک بیان میں عطا اللہ تارڑ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی جواز۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ناکام کوششوں سے بھارت کو شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جائز قرار، امریکا نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کردی

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ اقوام متحدہ کے توثیق شدہ ’ون واٹر ون ویژن‘ کے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بی وائی ڈی کی سی لائن ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی پیداوار اگلے ماہ سے شروع ہوجائے گی، حبکو رپورٹ

امریکی کانگریس کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ جاری

آن لائن کھیلوں اور سوشل میڈیا پر بچوں کے لیے خطرناک جال، گروہ کیسے کام کرتے ہیں؟

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئے، ثمر ہارون بلور

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا