افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جائز قرار، امریکا نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کردی

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف پاکستان کی حالیہ انٹیلی جنس بنیاد پر کی گئی فوجی کارروائیوں کی بھرپور تائید کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کردہ ایک خصوصی بیان میں پاکستانی عوام کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی عوام نے دہشتگردی کے ہاتھوں بے پناہ نقصان اٹھایا ہے‘، اس لیے امریکا دہشتگردانہ حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے پاکستان کے قانونی حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟

واشنگٹن کا یہ اہم ترین سفارتی بیان حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کیے گئے مربوط زمینی اور فضائی آپریشن ’غضبُ الحق‘ کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

آپریشن غضبُ الحق، باجوڑ اور افغانستان میں کاری ضرب

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 29 جون کو ضلع باجوڑ میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک انتہائی کامیاب کارروائی کی، جس میں کالعدم جماعت الاحرار اور ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 4 خطرناک دہشتگرد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ان کا انتہائی اہم اور مطلوب کمانڈر خان فروش عرف زابل بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ باجوڑ آپریشن کے فوراً بعد، 28 اور 29 جون کی درمیانی شب، پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغانستان کے اندر صوبہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں موجود دہشتگردوں کے 3 اہم ترین ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔

ان شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 25 دہشتگرد ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، بارود اور گولہ باری کے بڑے ذخائر کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

کیمپوں پر حملوں کا جواب اور افغان ڈرونز کی تباہی

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سرحد پار فوجی کارروائیاں پاکستان کے اندر حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد خونریز دہشتگرد حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔

ان حملوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے علاوہ کراچی میں ’پاکستان رینجرز (سندھ)‘  کے کیمپ پر بزدلانہ حملہ بھی شامل تھا، جس کے تانے بانے سرحد پار بیٹھے ماسٹر مائنڈز سے ملتے تھے۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

دوسری جانب پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بلوچستان کی سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بھیجے گئے 4 دیسی ساختہ (آئی ای ڈی) ڈرونز کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فضا میں ہی کامیابی سے مار گرایا ہے، جو کہ ملکی خودمختاری پر حملے کی ایک اور ناکام کوشش تھی۔

پاک، افغان سفارتی کشیدگی

پاکستان طویل عرصے سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت اپنی سرزمین پر موجود ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے جو پاکستان کی سلامتی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

پاک امریکا تعلقات میں گرمجوشی اور ثالثی کا کردار

واضح رہے کہ امریکا کا یہ تازہ ترین اور واشگاف بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں واضح بہتری اور گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان، جو کہ امریکا کا ایک اہم ’نان نیٹو اتحادی‘ ہے، حالیہ مہینوں میں واشنگٹن کے ساتھ اپنے سفارتی، تجارتی اور سیکیورٹی روابط کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

اسٹریٹجک محاذ پر پاکستان کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پردے کے پیچھے اہم سفارتی کوششوں اور ثالثی کا کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس نازک موڑ پر امریکا کی جانب سے پاکستان کے حقِ دفاع کی واشگاف الفاظ میں حمایت، دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں اسلام آباد کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی فتح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp