ٹرمپ کا ترکیہ پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان، ایف-35 طیاروں کی فروخت پر بھی غور

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ترکی پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن انقرہ کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے معاملے پر بھی غور کرے گا۔ تاہم دونوں اقدامات کو امریکی قوانین کے باعث قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔ یہ پابندیاں 2020 میں ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد لگائی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال

ٹرمپ نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کے بارے میں بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک شاندار طیارہ ہے، دنیا کا بہترین لڑاکا طیارہ، اور ہم اس معاملے پر ضرور غور کریں گے۔

امریکی صدر 11 برس بعد ترکی کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے، جہاں صدر رجب طیب اردوان نے ان کا شاندار سرکاری استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب میں گھڑ سوار ترک فوجیوں نے ٹرمپ کے قافلے کو صدارتی محل تک پہنچایا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے عوامی بیانات میں ایک دوسرے کے تعلقات کو سراہا۔

ترکی کو دوبارہ ایف-35 پروگرام میں شامل کرنے کے لیے امریکا کو 2020 کے اس قانون پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت صدارتی انتظامیہ کو یہ تصدیق کرنا ضروری ہے کہ ترکی اب روسی ایس-400 نظام اپنے پاس نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے استعمال کر رہا ہے۔

امریکا نے 2020 میں ’کاؤنٹرنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ‘ کے تحت ترکی کی دفاعی صنعت کے ادارے پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں امریکی برآمدی لائسنسوں پر پابندی اور مالیاتی و بینکاری پابندیاں بھی شامل تھیں۔ اسی تنازع کے باعث ترکی کو ایف-35 پروگرام سے بھی خارج کر دیا گیا تھا۔

صدر اردوان نے امید ظاہر کی کہ ایف-35 طیاروں کے معاملے میں امریکا مثبت فیصلہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو ماضی میں 5 ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، لیکن پابندیوں کے خاتمے اور ایف-35 پروگرام میں ترکی کی واپسی کے لیے قانونی اور سیاسی رکاوٹیں فوری طور پر دور ہونا آسان نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن، رواں سال کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ترقی کا سال ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

فیفا ورلڈ کپ 2026: سینیگال کی فٹبال ٹیم کے ساتھ ماہر امراض نسواں کو بھیجا گیا؟

اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کی ملاقات، انسانی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پولیس اہلکار اور عورت کا بہیمانہ قتل

ویڈیو

پاک فوج ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، مولانا کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، پشاور کے شہری

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

کالم / تجزیہ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری