محکمہ خوراک پنجاب نے ایک نجی چینل پر نشر ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پنجاب سے 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم غائب ہو گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب نے کہا ہے کہ گندم کا تمام ریکارڈ محفوظ ہے اور خبر میں حقائق کو توڑ مروڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ، حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نجی چینل پر نشر ہونے والی خبر، جس میں پنجاب سے 45 لاکھ میٹرک ٹن گندم غائب ہونے کا دعویٰ کیا گیا، حقائق کے سراسر منافی اور بے بنیاد ہے۔محکمہ خوراک پنجاب
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں گندم کی قلت ہے نہ ہی درآمد کرنے کی ضرورت، صوبائی وزیر زراعت
محکمہ خوراک پنجاب کے مطابق خبر میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 45 لاکھ میٹرک ٹن، یعنی لگ بھگ 9 کروڑ بوری گندم، ایک بین الصوبائی اجلاس میں زیر بحث آئی اور پنجاب حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے اس کی نشاندہی کی۔ تاہم متعلقہ ذرائع سے وضاحت لینے پر خود یہ بات سامنے آئی کہ اس سے مراد “ذخیرہ شدہ گندم” تھی، لیکن اس کے باوجود خبر میں یہ تاثر دیا گیا کہ گندم ’غائب‘ ہو چکی ہے۔
محکمہ خوراک نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں پیدا ہونے والی کل گندم کا تقریباً 55 فیصد، یعنی لگ بھگ ایک کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن، کاشتکار اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ انسانی خوراک کے لیے ہر ماہ تقریباً 13 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال ہوتی ہے، جس کے مطابق رواں سیزن کے دوران اب تک تقریباً 45 سے 50 لاکھ میٹرک ٹن گندم استعمال ہو چکی ہے۔

محکمہ خوراک پنجاب کے مطابق تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم اور گندم سے تیار مصنوعات باقاعدہ ریکارڈ کے تحت دیگر صوبوں کو فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم فلور ملز کے پاس موجود ہے۔ اس کے علاوہ 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم محکمہ خوراک پنجاب کے ذخائر میں اور تقریباً 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم بیج کمپنیوں کے پاس محفوظ ہے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ گندم کہیں غائب نہیں ہوئی بلکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر مکمل طور پر ریکارڈ اور حساب میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم ذرائع کے حوالے سے اس نوعیت کی خبر نشر کرنا نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ صحافتی اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔
محکمہ خوراک پنجاب نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی خبر کی اشاعت یا نشریات سے قبل متعلقہ ادارے سے تصدیق ضرور کی جائے تاکہ عوام میں بے جا ابہام اور بدگمانی پیدا نہ ہو۔














