خامنہ ای کے جنازے میں طالبان مخالف رہنماؤں کو دعوت کیوں دی؟ ایران کا مؤقف سامنے آ گیا

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے سابق صدارتی نمائندہ برائے افغانستان حسن کاظمی قمی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے سربراہ احمد مسعود اور دیگر طالبان مخالف رہنماؤں کو دعوت دینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی پالیسی افغانستان کے تمام عوام سے روابط برقرار رکھنے کی ہے، چاہے اقتدار میں کوئی بھی سیاسی دھڑا موجود ہو۔

حسن کاظمی قمی، جو پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے رکن بھی ہیں، نے نیوز ویب سائٹ ’آئی آر اے ایف نیوز‘ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے عوام کی نمائندگی مختلف سیاسی قوتیں کرتی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت صرف معاشرے کے ایک حصے کی نمائندہ ہے، جبکہ دیگر طبقات حکومت سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور افغانستان کے عوام کے تعلقات مشترکہ ثقافتی، تاریخی، مذہبی اور اخلاقی رشتوں پر استوار ہیں، اس لیے انہیں محض سیاسی زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

قمی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، طالبان مخالف افغان رہنماؤں کی تہران میں موجودگی کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے طالبان نے افغان عوام کو دہشتگردوں کے لیے قربان کر دیا، سربراہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ احمد مسعود

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 48 برس کے دوران افغانستان میں حکومتیں اور سیاسی تحریکیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن ایران نے ہمیشہ تمام افغان عوام کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کے بقول آج افغانستان کے ایک حصے کے نمائندے اقتدار میں ہیں جبکہ دوسرا حصہ اقتدار سے باہر ہے، اور ایران کا رویہ پورے افغان معاشرے کے ساتھ یکساں ہے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے حسن کاظمی قمی نے کہا کہ گزشتہ 5 دہائیوں کے دوران مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لاکھوں افغان شہری ایران میں مقیم رہے ہیں، جن کا ایرانی عوام نے ہمیشہ خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان مخالف رہنماؤں کو تہران مدعو کرنا ایران کی اسی جامع پالیسی کا حصہ ہے اور اسے صرف ایک سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں جاں بحق ہونے والے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں منعقدہ تقریبات کے پہلے روز تہران میں طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام اور ان کے مخالف رہنماؤں کی بیک وقت موجودگی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کا ایران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

تقریب میں طالبان کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی، جبکہ دوسری جانب طالبان مخالف وفد کی قیادت احمد مسعود اور محمد محقق کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے احمد مسعود اور محمد محقق کا سرکاری سطح پر استقبال کیے جانے پر طالبان کے متعدد حامیوں نے شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟