مسجد نبویؐ کی دھوپ گھڑی، اسلامی سائنسی ورثے کی منفرد یادگار

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسجد نبویؐ میں نصب تاریخی دھوپ گھڑی (سن ڈائل) آج بھی اسلامی تہذیب کے سائنسی ورثے کی ایک منفرد علامت سمجھی جاتی ہے، جس کے ذریعے جدید گھڑیوں کی ایجاد سے قبل وقت اور نمازوں کے اوقات کا انتہائی درست تعین کیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں:مدینہ منورہ: مسجد نبویؐ کی لائبریری حج کے بعد آنے والے زائرین کے لیے علم و تحقیق کا مرکز بن گئی

سعودی خبر رساں ایجنسی (SPA) کے مطابق یہ دھوپ گھڑی 1335 ہجری میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ سورج کے سائے کی حرکت کو مخصوص نشانات کے ذریعے جانچ کر مسجد نبویؐ کے جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق درست وقت بتاتی تھی اور اپنے دور میں نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کا ایک نہایت مؤثر ذریعہ تھی۔

مسجد نبویؐ کے گنبدِ خضرا کے قریب واقع یہ تاریخی دھوپ گھڑی آج بھی اپنی تاریخی اور سائنسی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ نہ صرف وقت معلوم کرنے کے ارتقا کی ایک اہم منزل کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاس ہے کہ مسلمانوں نے عبادات کی ادائیگی کے لیے درست اوقات کے تعین کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی۔

مزید پڑھیں:صدیوں پر محیط مسجد نبویؐ کے تعمیراتی ارتقا پر جامع انسائیکلوپیڈیا شائع

ماہرین کے مطابق یہ یادگار اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اسلامی تہذیب میں فلکیات اور ریاضی کے علوم کو عبادات اور عوامی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جاتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں