متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما مصطفیٰ کمال نے پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چوری چھپے الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے میں توسیع لیتے رہے ہیں اور انہیں پارٹی عہدے سے ہٹانے کے لیے بغاوت کی ضرورت نہیں پڑےگی۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بغاوت ہمیشہ بڑے لیڈر کے خلاف ہوتی ہے اور خالد مقبول اتنے بڑے رہنما نہیں ہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کی جائے۔
انہوں نے کہاکہ خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کی مرکزی کابینہ کے علم میں لائے بغیر 4 مرتبہ الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے میں توسیع لی اور انہیں اس بات کا تب پتا چلا جب بار بار توسیع لینے پر چیف الیکشن کمشنر نے ان کی سرزنش کی اور اس کی خبر ٹی وی پر چلی۔
’اس پر جب ہم نے پوچھا تو ان کے ایک قریبی رکن رضوان بابر نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جا رہا ہے۔‘
انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سال سے ایم کیو ایم کی مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد نہیں ہوا کیونکہ خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ مصطفیٰ کمال اس میں سخت باتیں کرتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ اتنا اہم معاملہ 9 لوگوں کی مرکزی کابینہ کو بھی نہیں پتا، یہ کسی کا ذاتی معاملہ تو نہیں۔ یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی پارٹی کا چیئرمین اپنے عہدے میں توسیع الیکشن کمیشن سے مانگ رہا ہے اور پارٹی الیکشن سے فرار حاصل کررہا ہے۔ ’اگر وہ چیئرمین رہنا چاہتے تھے تو ہمیں بتا دیتے، ہم انہیں دوبارہ چیئرمین بنا دیتے۔‘
’اب ایم کیو ایم میں کوئی قائد تحریک یا ’فادر فگر‘ نہیں‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ جب الطاف حسین کے خلاف بغاوت کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کیا تو خالد مقبول صدیقی کو چیئرمین قبول کیا اور ان کی سربراہی میں انتخابات میں حصہ لیا لیکن اب ایم کیو ایم میں کوئی قائد تحریک نہیں ہے، کوئی ’’فادر فگر’’ نہیں ہے۔ اب جو پارٹی کا رہنما بنے گا، اپنے کام کے بل بوتے پر بنے گا، مارک شیٹ پر بنے گا، اور مارک شیٹ ہماری سب سے اچھی ہے۔
’عہدے میں توسیع لینے والا قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ جو رہنما الیکشن کمیشن سے اپنے عہدے کی توسیع لے رہا ہے وہ ہماری قوم کا مقدمہ کیا لڑےگا؟
انہوں نے کہاکہ اگر الطاف حسین کے خلاف بغاوت ہو سکتی ہے، جو بند بوریوں میں لاشیں بھیج دیتا تھا تو پھر کسی کے خلاف بھی ہو سکتی ہے، لیکن بغاوت ہمیشہ بڑے لیڈر کے خلاف ہوتی ہے اور یہ اتنے بڑے لیڈر نہیں کہ ان کے خلاف بغاوت کرنا پڑے۔
مصطفٰی کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم میں ان کے علاوہ ڈاکٹر فاروق ستار، خواجہ اظہار اور کئی دوسرے لوگ بھی چیئرمین بننے کے اہل ہیں تاہم پروٹوکول کے تحت خالد مقبول صدیقی کے بعد وہ آتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم لندن اب کہیں نہیں ہے اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی وہ اپنے لیے حمایت حاصل نہیں کر سکے۔
’دبئی جائیدادوں کی قیمت بڑھنے کے پیچھے پاکستانی سیاستدان‘
کراچی کے حالات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 18 سال حکومت کے لیے کم نہیں ہوتے اور آج پیپلز پارٹی کی حکومت کا ان کے دور سے موازنہ کیا جانا چاہیے کہ لوگوں کو پانی، سیوریج اور ٹریفک کے نظام کی سہولتیں آج بہتر مل رہی ہیں یا ان کی مئیر شپ کے دور میں بہتر ملتی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کے پاس 22 یا 25 ہزار ارب کا بجٹ نہیں تھا، ہم نے رشوت نہیں لی، آج دیکھیں کیا حال ہے۔
مصطفٰی کمال نے مزید کہاکہ دبئی میں جائیدادوں کی قیمتیں پاکستانی سیاستدانوں کے پیسے کی وجہ سے بڑھی ہوئی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے بارے میں بات جاری رکھتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آپ صدر، چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر صرف اپنے ووٹوں سے نہیں بنے۔ پیپلز پارٹی نے 812 ارب روپے والی بی آئی ایس پی کی وزارت بھی رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اپوزیشن میں ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر جنرل پرویز مشرف کے دور میں رائج بنیادی حکومتوں کے نظام کے تحت آج کراچی کو فنڈز ملتے تو صرف پچھلے سال 326 ارب روپے ملنے تھے۔
’مختلف مدوں میں ملنے والی کل رقم 800 ارب روپے ہوتی لیکن آج کراچی کو 80 ارب بھی نہیں ملے، کیونکہ 2010 میں چاروں صوبوں نے وفاقی حکومت سے اضلاع کی گرانٹس کے پیسے واپس لے لیے تھے۔ آج 4 اشخاص جو وزرائے اعلیٰ ہیں انہیں ساڑے آٹھ ہزار ارب ملتے ہیں، صوبوں کو نہیں ملتے۔‘
’پاکستان کو دلدل سے آئی ایم ایف نہیں، کراچی نکال سکتا ہے‘
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ کراچی پاکستان کے لیے دودھ دینے والی گائے ہے اور پاکستان کے لیے اس کو بحال کرنا ہے۔ پاکستان کو دلدل سے آئی ایم ایف نہیں بلکہ کراچی نکال سکتا ہے، آج آپ اس کی صلاحیت سے 10 فیصد بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے، پیسے کی کمی نہیں ہے، نیتوں اور انتظامی صلاحیتوں کی کمی ہے۔
’آج آپ نے 8 ہزار 848 ارب روپے جو صوبوں کو دیے ہیں اگر اس کا 50 فیصد بھی نیچے لوگوں تک یونین کونسلز کے ذریعے، صوبائی حکومتوں کے ذریعے پہنچے تو پاکستان میں بہار آ جائے۔‘
’کراچی کے نوجوان کے لیے صرف فوڈ پانڈا کی نوکری‘
انہوں نے کہاکہ آج کراچی کے نوجوانوں کو کوٹے پر بھی نوکریاں نہیں ملتیں اور ان کے لیے صرف فوڈ پانڈا کی نوکری رہ گئی ہے۔
مزید پڑھیں:ایم کیو ایم نے کس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ن لیگ سے اتحاد کیا؟
’جب حکومت جانی ہوتی ہے پتا نہیں چلتا‘
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا پاکستان میں جب حکومت جانی ہوتی ہے تو پتا نہیں چلتا، آج کل اگر ایسی باتیں ہو رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا، اور جب کچھ ہونا ہوگا تو ہو جائے گا لیکن آج کے دن تک موجودہ نظام ہی چل رہا ہے۔
’پاکستان کی آبادی 26 کروڑ ہوگئی‘
اپنی وزارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مانع حمل اشیا پر ٹیکس ختم کردیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس ٹیکس کے خاتمے سے سالانہ 15 لاکھ بچے کم پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ آبادی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی اب 26 کروڑ ہو چکی ہے۔











