امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ آج رات ہی ممکنہ طور پر ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماضی میں کب مسلح حملوں اور دھمکیوں کا سامنا رہا؟
امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے اور واشنگٹن کسی بھی نئے معاہدے کے بغیر بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانیوں سے بالکل خوش نہیں ہوں، جنگ بندی کا خاتمہ
امریکی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’میں ایرانیوں سے بالکل خوش نہیں ہوں کیونکہ ایران مسلسل مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انہوں نے ایران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بحری جہازوں پر ڈرونز اور میزائل فائر کیے گئے، جس کے بعد اب تہران کو مشرقِ وسطیٰ میں کسی دوسرے ملک کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام اور سخت امریکی موقف
ایرانی ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسے اب تک استعمال کر چکا ہوتا۔‘
مزید پڑھیں:دنیا میں 8 جنگیں رکوا چکا ہوں، امید ہے روس اور یوکرین کے درمیان بھی جلد ڈیل ہو جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امریکا ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دے گا اور اس کے جارحانہ عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
یوکرین جنگ کا خاتمہ اور عالمی امن کا دعویٰ
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے ساتھ ساتھ یوکرین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ماضی میں بھی دنیا کی کئی لڑائیاں رکوائیں اور اب وہ یوکرین جنگ کو بھی بند کروا دیں گے۔
انہوں نے اس سلسلے میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا حوالہ دیتے ہوئے امن کے قیام کے لیے امریکی مفادات کو ترجیح دینے کا اعادہ کیا۔














