برطانیہ کی ایک ہاسپس نرس نے کہا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے والے بہت سے افراد ایک جیسے تجربات بیان کرتے ہیں اور اکثر ایسی باتیں کرتے ہیں جنہیں وہ زندگی کے آخری لمحات میں ایک خاص کیفیت کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔
62 سالہ پینی ہاکنز اسمتھ گزشتہ 20 برس سے ہاسپس نرس کے طور پر کام کر رہی ہیں اور انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی ایسے مریضوں کے آخری وقت میں ان کے ساتھ موجود رہنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔
پینی کے مطابق جب کوئی شخص قدرتی موت کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے تو عموماً وہ زیادہ سونے لگتا ہے، آہستہ آہستہ اردگرد کے ماحول پر ردعمل کم ہوجاتا ہے اور پھر ایک ایسی گہری بے خبری کی کیفیت میں چلا جاتا ہے جسے طبی زبان میں موت سے پہلے کی آخری کیفیت کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے اور اس دوران خاندان کے افراد کو خوفزدہ ہونے کے بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ مریض ایک معمول کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
نرس نے بتایا کہ بعض مریض آخری دنوں یا گھنٹوں میں ایسی چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے تجربے کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ بعض افراد اپنے انتقال کرجانے والے عزیزوں کو دیکھنے کا ذکر کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ کسی سفر یا آخری مہم پر جانے جیسی باتیں کرتے ہیں۔
پینی کے مطابق ایسے تجربات کو ہاسپس کیئر میں اکثر دیکھا جاتا ہے اور کئی مریض ان لمحات میں خوف کے بجائے سکون محسوس کرتے ہیں۔
پینی ہاکنز اسمتھ کا کہنا ہے کہ معاشرے میں موت کو اکثر ایک ممنوع موضوع سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس کے بارے میں کم جانتے ہیں اور خوف زیادہ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تربیت عام طور پر زندگی بچانے اور اسے طویل کرنے پر مرکوز ہوتی ہے، اس لیے موت کو کبھی کبھی ناکامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔
نرس کے مطابق بہت سے خاندان ہاسپس میں آنے کے بعد یہ نہیں سمجھ پاتے کہ مریض کی زندگی کا وقت محدود ہو سکتا ہے۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ مریض اور خاندان کو سمجھایا جائے کہ آخری مرحلے میں ہونے والی تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر شخص کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے، تاہم شدید بیماری کے آخری مرحلے میں آنے والے بہت سے افراد میں کچھ علامات مشترک ہوتی ہیں، جیسے زیادہ نیند، کم ردعمل اور آہستہ آہستہ جسمانی کمزوری میں اضافہ۔














