امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں گزشتہ سال اکتوبر میں ایک اپارٹمنٹ سے ملنے والی بھارتی خاتون کی لاش کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد مقتولہ کے شوہر کو گرفتار کرلیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو گلا دبا کر قتل کیا اور واقعے کو حادثاتی موت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
تفتیشی حکام کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ ایویناش نرنے پر اپنی 27 سالہ اہلیہ راجیتھا سابھینی کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے، جو اکتوبر 2025 میں واشنگٹن کے ایک اپارٹمنٹ میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے اپنی اہلیہ کا گلا گھونٹ کر قتل کیا، تاہم ابتدائی طور پر اس واقعے کو حادثاتی موت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نکھل گپتا نے اعتراف کرلیا
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق راجیتھا سابھینی نے اپنی موت سے قبل بعض افراد کو بتایا تھا کہ ان کے شوہر کئی مرتبہ ایسے مشروبات تیار کرتے تھے جن کا ذائقہ غیر معمولی طور پر کڑوا ہوتا تھا۔ مقتولہ نے مبینہ طور پر اپنے شوہر سے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی تیار کردہ اسموتھی کا ذائقہ دوا یا کھانسی کے شربت جیسا محسوس ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسی روز بعد میں وہ مردہ پائی گئیں۔
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ قتل کے پیچھے مقتولہ کے شوہر کا مبینہ کردار ہے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم کا ایک دوسری خاتون کے ساتھ تعلق تھا اور مبینہ طور پر بھارت میں موجود اس خاتون کے ساتھ مل کر قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے شوہر کو کیسے قتل کیا جائے؟ بھارتی خاتون نے یوٹیوب سے طریقہ سیکھ کر ’کامیاب واردات’ کر ڈالی
تفتیشی افسران کے مطابق ایویناش نرنے اور راجیتھا سابھینی کی شادی جون 2025 میں ہوئی تھی، یعنی قتل سے تقریباً 4 ماہ قبل۔ تحقیقات کے دوران ملزم کے فون ریکارڈز، مالی لین دین اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا، جن سے مبینہ طور پر اس کے دیگر تعلقات اور سرگرمیوں کا پتا چلا۔
واشنگٹن پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے حراست میں لے لیا ہے۔ عدالت نے اس کی ضمانت کے لیے 50 لاکھ ڈالر کے مچلکے مقرر کیے ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ریاستی قانون کے تحت جرم ثابت ہوجاتا ہے تو ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔














