برطانیہ کے تاریخی لندن چڑیا گھر (زیڈ ایس ایل لندن زو) کے قیام کو 200 سال مکمل ہونے پر شاہی خاندان نے مرحوم ملکہ الزبتھ دوم کی بچپن کی ایک نایاب تصویر جاری کی ہے جس میں وہ سنہ 1939 میں پینگوئنز کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملکہ الزبتھ دوم کی 100ویں سالگرہ: ایک عہد ساز حکمران کی لازوال میراث
شاہی خاندان نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تصاویر اور تاریخی جھلکیوں کا ایک مجموعہ شیئر کیا جس میں ملکہ الزبتھ دوم اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے لندن چڑیا گھر کے مختلف ادوار میں کیے گئے دوروں کو اجاگر کیا گیا۔
شاہی محل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شاہ چارلس سوم اور ملکہ کیملا آج لندن چڑیا گھر کا دورہ کریں گے تاکہ اس کے 200 ویں یوم تاسیس کی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ یہ زیڈ ایس ایل (زولوجیکل سوسائٹی آف لندن) کے سرپرست کی حیثیت سے شاہ چارلس کا پہلا باضابطہ دورہ ہوگا جب کہ سنہ 1828 سے برطانیہ کا ہر فرمانروا اس ادارے کا سرپرست رہا ہے۔
شائع کی گئی پہلی تاریخی تصویر میں کم عمر شہزادی الزبتھ کو پینگوئنز کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دیگر تصاویر میں شاہی خاندان کے مختلف اراکین کی چڑیا گھر آمد کی یادگار جھلکیاں شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: برطانوی کرنسی کی تاریخ کا اہم باب بند: ملکہ الزبتھ کی تصویر والا آخری سکہ جاری
ان تصاویر میں سنہ 1938 میں ملکہ الزبتھ دوم کی ایک پانڈا سے ملاقات، چمپینزیوں کے ساتھ ان کی موجودگی، ملکہ الزبتھ دوم اور شہزادہ فلپ کی جانب سے لینڈ آف دی لائنز نمائش کے افتتاح کی تصاویر بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شہزادہ فلپ کی سنہ 1963 میں ’ٹوٹو‘ نامی ہاتھی سے ملاقات، شہزادی این کی سنہ 2000 میں ’میری‘ نامی زرافے کے ساتھ تصویر، شاہ چارلس اور شہزادہ ولیم کا سنہ 2013 میں شیروں اور شیروں کے احاطے کا دورہ، سر ڈیوڈ ایٹن برو کے ساتھ کاکاتو طوطے کی موجودگی، گوریلا ’گائے‘ کے ساتھ شہزادہ فلپ، زرافوں سے ملاقات اور ڈچس آف ایڈنبرا کی بندروں کو خوراک کھلاتے ہوئے تصاویر بھی شیئر کی گئیں۔
شاہی خاندان نے اپنی پوسٹ میں لندن چڑیا گھر کی 2 صدیوں پر محیط خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے برطانیہ کے قدیم ترین اور اہم سائنسی و تحفظِ جنگلی حیات کے اداروں میں شمار کیا۔
مزید پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
واضح رہے کہ لندن چڑیا گھر دنیا کے قدیم ترین سائنسی چڑیا گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا افتتاح سنہ 1828 میں تحقیقی مقاصد کے لیے کیا گیا تھا جبکہ سنہ 1847 میں اسے عام عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ گزشتہ 2 صدیوں کے دوران یہ ادارہ جنگلی حیات کے تحفظ، افزائشِ نسل اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے۔












