امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی مبینہ ایرانی سازش سے متعلق اسرائیل نے امریکا کو نئی انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ معلومات واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتی ہیں، جبکہ ایران نے اس معاملے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ یہ معلومات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کئی برسوں سے 3 جنوری 2020 کو ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی کارروائی میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ترک صدر کا اسرائیل کو انتباہ
اسرائیلی سفارت خانے نے مبینہ طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
وائٹ ہاؤس نے اخبار کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدھ کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس کے دوران دیے گئے بیان کی طرف رجوع کرنے کا کہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا، ’وہ امریکا کے سربراہ کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، یعنی مجھے۔ میں ان کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔ میں نے آج صبح دیکھا کہ میں ان کی تمام فہرستوں میں موجود ہوں۔ اب تک شاید میں خوش قسمت رہا ہوں، لیکن یہ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیے نومنتخب امریکی صدر کے قتل کا منصوبہ بے نقاب، ڈونلڈٹرمپ کس ملک کے نشانے پرتھے؟
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ 2 روز کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایران نے جمعرات کو امریکا کی جانب سے مسلسل دوسرے روز کیے گئے حملوں کے جواب میں بحرین، کویت، قطر اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خدشات بڑھ گئے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی کسی بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔














