بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے صوبہ بدخشاں کے ضلع راغ کے علاقے سیاب میں طالبان کی ایک بریگیڈ پر رات گئے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں طالبان کے 2 اہلکار ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہو گئے۔

این آر ایف نے جمعرات کی شام جاری بیان میں کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام طالبان اہلکار مقامی نہیں تھے۔ تنظیم کے مطابق کارروائی کے دوران طالبان کی ایک فوجی گاڑی بھی تباہ کر دی گئی، جبکہ اس کے اپنے کسی جنگجو یا شہری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان: نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے حملے میں بدخشاں کے پولیس چیف ہلاک

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کے خلاف اس کی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک افغانستان اور اس کے عوام کو طالبان کی حکمرانی سے نجات نہیں مل جاتی۔

دوسری جانب طالبان نے این آر ایف کے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔

ادھر مقامی ذرائع نے ویب سائٹ ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کو بتایا ہے کہ طالبان کے آرمی چیف فصیح الدین فطرت نے بدخشاں کے ضلع نصی (نُسی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے منحرف طالبان کمانڈر جُمعہ خان فتح سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی، تاہم اس میں ہونے والی گفتگو، ایجنڈے یا نتائج کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ طالبان کی جانب سے بھی اس دورے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے طالبان کے منحرف کمانڈر کا بڑا اعتراف، افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ فصیح الدین فطرت کی آمد کے ساتھ ہی طالبان کے انٹیلی جنس ادارے نے علاقے میں خصوصی دستہ تعینات کر دیا اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

بدخشاں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

اطلاعات کے مطابق حالیہ ہفتوں میں طالبان قیادت اور جُمعہ خان فتح کے درمیان اختلافات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان نے نصی ضلع میں اضافی نفری تعینات کی تھی تاکہ جُمعہ خان فتح کے وفادار جنگجوؤں کو غیر مسلح کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فصیح الدین فطرت کے دورے سے قبل بھی مذاکرات کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم شغنان میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران جُمعہ خان فتح نے اپنے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کی طالبان کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے طالبان نے افغان عوام کو دہشتگردوں کے لیے قربان کر دیا، سربراہ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ احمد مسعود

ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات میں جُمعہ خان فتح کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں، بدخشاں میں ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا، انتظامی تقرریاں اور صوبے کی سونے کی کانوں پر کنٹرول شامل ہیں۔

جُمعہ خان فتح اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ صرف ضلع نصی میں ان کے زیرِ کمان تقریباً ڈھائی ہزار مسلح جنگجو موجود ہیں، جبکہ درواز کے 5 اضلاع میں بھی ان کے ہزاروں حامی موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے صوبوں کی تشکیل عوامی ضرورت ہے، سیاستدان ذمہ داری لیں، عبدالعلیم خان

2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ اے آئی فعال صوبہ بنانے کا ہدف

بیلجیم، گھر کی مرمت کے دوران دیوار سے 2 ارب 89 کروڑ کا سونا نکل آیا، اصل وارث کون؟، نئی بحث شروع

ایئر انڈیا پائلٹ کا بھنگ ٹیسٹ مثبت، کیا یہی طیارے کے اچانک نیچے آنے کی وجہ تھی؟

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

ویڈیو

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی