طالبان کے منحرف کمانڈر کا بڑا اعتراف، افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان کے منحرف سینیئر کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی نفی کر دی ہے جن میں افغان سرزمین پر ایسے گروہوں کی موجودگی سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:افغانستان سے بھیجے گئے 4 ڈرونز تباہ، پاکستان نے طالبان کو خبردار کر دیا

حاجی جمعہ خان فتح نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی وہ غیرملکی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کے مخالف رہے ہیں اور ایسے تمام آپریشنز کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد ان گروہوں کا خاتمہ اور شہریوں کو مزید جانی نقصان سے بچانا ہو۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ بدخشاں کے درواز (Darwaz) اور معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں پر اب بھی ان کی فورسز کا کنٹرول ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ قندھار میں قائم طالبان قیادت کا اثر و رسوخ روایتی طاقت کے مراکز سے باہر کمزور پڑ رہا ہے۔

منحرف طالبان کمانڈر کے مطابق طالبان وفد اور ان کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ قیادت اختلافات کو مذاکرات کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی جانب سے درواز کی طرف فوجی قافلوں کی روانگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قیادت کو اندرونی اختلافات کے منظم مزاحمت میں تبدیل ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔

جمعہ خان فتح کا کہنا تھا کہ بدخشاں کے معدنی وسائل پر کنٹرول بھی طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت، وسائل اور اثر و رسوخ کی کشمکش کا اہم سبب بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں:بی بی سی پشتو افغان طالبان رجیم کا پروپیگنڈا آگے پھیلانے لگا، دہشتگردی کے معاملے پر خاموشی سوالیہ نشان

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان قیادت اپنی توجہ اندرونی اختلافات دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں، جو طالبان کے انسداد دہشتگردی سے متعلق دعوؤں پر سوالات اٹھاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ایک سابق سینیئر کمانڈر کی جانب سے یہ اعتراف نہ صرف افغانستان میں غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی سے متعلق دیرینہ خدشات کو تقویت دیتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ طالبان حکومت اندرونی اتحاد برقرار رکھنے اور انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp