طالبان کے منحرف سینیئر کمانڈر حاجی جمعہ خان فتح نے افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی نفی کر دی ہے جن میں افغان سرزمین پر ایسے گروہوں کی موجودگی سے مسلسل انکار کیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:افغانستان سے بھیجے گئے 4 ڈرونز تباہ، پاکستان نے طالبان کو خبردار کر دیا
حاجی جمعہ خان فتح نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی وہ غیرملکی دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کے مخالف رہے ہیں اور ایسے تمام آپریشنز کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد ان گروہوں کا خاتمہ اور شہریوں کو مزید جانی نقصان سے بچانا ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ بدخشاں کے درواز (Darwaz) اور معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں پر اب بھی ان کی فورسز کا کنٹرول ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ قندھار میں قائم طالبان قیادت کا اثر و رسوخ روایتی طاقت کے مراکز سے باہر کمزور پڑ رہا ہے۔
افغان رجیم کی اندرونی صفوں میں بڑی دراڑ؛ امیرِ طالبان کا اپنے ہی کمانڈر کیخلاف آپریشن کا حکم
صوبہ بدخشاں کے معدنیاتی وسائل پر قبضے کی جنگ نے سنگین عسکری و سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی
افغان طالبان رجیم اور مقامی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کے درمیان معدنیات تقسیم پر اختلافات… pic.twitter.com/56V929A848— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 24, 2026
منحرف طالبان کمانڈر کے مطابق طالبان وفد اور ان کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ قیادت اختلافات کو مذاکرات کے بجائے طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی جانب سے درواز کی طرف فوجی قافلوں کی روانگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قیادت کو اندرونی اختلافات کے منظم مزاحمت میں تبدیل ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔
جمعہ خان فتح کا کہنا تھا کہ بدخشاں کے معدنی وسائل پر کنٹرول بھی طالبان کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت، وسائل اور اثر و رسوخ کی کشمکش کا اہم سبب بن چکا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان قیادت اپنی توجہ اندرونی اختلافات دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ افغان سرزمین پر دہشتگرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں، جو طالبان کے انسداد دہشتگردی سے متعلق دعوؤں پر سوالات اٹھاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کے ایک سابق سینیئر کمانڈر کی جانب سے یہ اعتراف نہ صرف افغانستان میں غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی سے متعلق دیرینہ خدشات کو تقویت دیتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ طالبان حکومت اندرونی اتحاد برقرار رکھنے اور انسداد دہشتگردی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا شکار ہے۔














