مراعات ایکٹ پر تنقید کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کا یوٹرن، تمام متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا حکومت نے اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا مراعات سے متعلق قانون، عوام کی جانب سے شدید ردعمل

حکومت کا کہنا ہے کہ متنازع نکات کو ختم کرکے قانون کو سنہ 1988 کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت جمعے کو صوبائی کابینہ کے اراکین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے مراعات ایکٹ کی تمام قابلِ اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں حکمران طبقے کے لیے نئی مراعات کے قوانین پر نئی بحث، تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

انہوں نے کہا کہ ان شقوں کو ختم کرکے قانون کو 1988 کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا تاکہ عوامی تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔

ان کے مطابق پیر کے روز ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں تمام پارلیمانی رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ اس معاملے پر وسیع مشاورت سے فیصلہ کیا جا سکے۔

شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں فارم 45 کی حکومت عوامی مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے اس لیے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جو عوامی امنگوں کی ترجمانی نہ کرتا ہو۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحافیوں اور عوام کی جانب سے سامنے آنے والے تمام تحفظات کو بھی سنے گی اور ان کی روشنی میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp