خیبرپختونخوا میں حکمران طبقے کے لیے نئی مراعات کے قوانین پر نئی بحث، تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا اسمبلی سے منظور ہونے والے 3 نئے قوانین نے اراکین اسمبلی اور اعلیٰ پارلیمانی عہدیداروں کو دی جانے والی مراعات اور خصوصی اختیارات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے ذریعے مرحلہ وار وی آئی پی کلچر کو قانونی شکل دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور اہلیہ کو بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس فری، ایئرپورٹ پر پروٹوکول، نئی مراعات میں مزید کیا ملے گا؟

ان کے مطابق پہلے قانون میں اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز) کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے، جبکہ دوسرے قانون کے تحت اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو سرکاری رہائش گاہ، گاڑیاں، سفری سہولیات، یوٹیلیٹی اخراجات، طبی سہولیات اور صوابدیدی مراعات فراہم کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

تیسرے قانون میں اراکین اسمبلی کو وسیع اختیارات اور مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے، جن میں سیکیورٹی، ٹول ٹیکس سے استثنا، وی آئی پی لاؤنجز تک رسائی، اسلحہ لائسنس، سرکاری پاسپورٹ اور گرفتاری سے متعلق قانونی تحفظ شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کی مجموعی مالی لاگت عوام کے سامنے واضح طور پر پیش نہیں کی گئی۔

ان کا مؤقف ہے کہ ایک طرف عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قانون ساز اپنے لیے آرام، خصوصی رسائی اور قانونی تحفظ کو قانون کا حصہ بنا رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ عوامی خدمت نہیں بلکہ عوامی وسائل پر اشرافیہ کے لیے خصوصی تحفظ اور سہولتوں کا نظام قائم کرنے کے مترادف ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بہتر اسکول، اسپتال، پولیسنگ اور بنیادی شہری سہولیات کی ضرورت ہے، نہ کہ مزید وی آئی پی مراعات کی۔ ان کے مطابق یہ قوانین صرف تنخواہوں کے تعین تک محدود نہیں بلکہ ان میں کھلے اختیارات کے ساتھ مختلف الاؤنسز، وزارتی سطح کی سہولیات، سرکاری رہائش گاہیں، سرکاری گاڑیاں، فرسٹ یا بزنس کلاس سفر، ملازمین کے سفری اخراجات، یوٹیلیٹی بلز، طبی مراعات اور وسیع قانونی تحفظات بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ناقدین کے مطابق متعدد مراعات اور ان کی مالی شرح کا فیصلہ فنانس کمیٹی پر چھوڑ دیا گیا ہے، جس کے باعث اصل مالی بوجھ کا تعین بعد میں کیا جا سکے گا۔

ناقدین کے مطابق جمہوری اصول یہی تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی بھی منتخب ادارہ عوام کے سامنے مکمل مالی تخمینہ، آزادانہ جائزہ اور شہری نگرانی کے بغیر اپنے لیے مراعات کا تعین نہ کرے۔

ان کا کہنا ہے کہ سب سے تشویش ناک پہلو کسی ایک الاؤنس کا نہیں بلکہ ان تمام مراعات کا مجموعہ ہے، جس میں تنخواہوں، خصوصی سہولتوں اور قانونی تحفظ کو ایک ہی پیکج کی صورت میں شامل کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اراکین اسمبلی کو سیکیورٹی کا خصوصی درجہ، ٹول ٹیکس سے استثنا، ریسٹ ہاؤسز تک رسائی، اسلحہ لائسنس، سرکاری پاسپورٹ اور شریک حیات کے لیے بھی خصوصی حیثیت جیسی سہولیات دی جا رہی ہیں۔

ناقدین کے مطابق اسمبلی کو سرکاری حکام، طلبی، گرفتاری اور رپورٹنگ سے متعلق بھی وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پنجاب بمقابلہ خیبرپختونخوا اسمبلی، کون کتنی تنخواہ لیتا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام میں خصوصی مراعات کا مقصد صرف آزادانہ قانون سازی اور بحث کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ قانون سازوں کو عام شہریوں سے بالاتر ایک الگ طبقہ بنانا۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان قوانین کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، ان کی مجموعی مالی لاگت عوام کے سامنے رکھی جائے اور غیر ضروری مراعات کو محدود کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟