متحدہ عرب امارات میں ماہرینِ چشم نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں کم عمری میں ہی قریب کی نظر درست مگر دور کی نظر کمزور ہونے (مایوپیا) کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کی بڑی وجوہات اسکرین کا زیادہ استعمال اور کھلی فضا میں کم وقت گزارنا ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، پمز نے اعلامیہ جاری کردیا
ماہرین کے مطابق گرمیوں کی تعطیلات کے بعد بڑی تعداد میں بچے دھندلا دکھائی دینے، سر درد اور آنکھوں پر دباؤ کی شکایات کے ساتھ کلینکس پہنچ رہے ہیں۔ اب وہ بچے بھی 5 یا 6 سال کی عمر میں مایوپیا کا شکار ہو رہے ہیں، جن میں پہلے یہ مسئلہ عموماً 8 سے 10 سال کی عمر میں سامنے آتا تھا۔
كسل العين
تحذير مهم ⚠️!اكتشافه وعلاجه المبكر يحمي طفلك
من ضعف دائم في النظرلا تننظر حتى تكبر المشكلة !
(د.همام) pic.twitter.com/hH8zPe0zHG
— Trendnews24 | ترند الأخبار (@trendnews_24) July 10, 2026
2024 میں شائع ہونے والی ایک عالمی تحقیق کے مطابق ہر اضافی ایک گھنٹے کے یومیہ اسکرین ٹائم سے مایوپیا کا خطرہ 21 فیصد بڑھ جاتا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے لیے کھلی فضا میں زیادہ وقت گزارنا آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
مزید پڑھیں:ایک لاکھ سے زائد بصارت سے محروم افراد کی بینائی لوٹانے والے نیپالی ڈاکٹر کون ہیں؟
تحقیقی اندازوں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک دنیا بھر میں قریباً 74 کروڑ بچے اور نوجوان مایوپیا کا شکار ہو سکتے ہیں۔














