دنیا بھر میں خواتین کرکٹ گزشتہ چند برسوں کے دوران غیرمعمولی ترقی کر چکی ہے۔ ریکارڈ تماشائی، اربوں روپے کے نشریاتی معاہدے اور مختلف ممالک میں کامیاب فرنچائز لیگز نے خواتین کرکٹ کو ایک باقاعدہ تجارتی شعبہ بنا دیا ہے۔ تاہم اس ترقی کے باوجود عالمی خواتین کرکٹ میں ایک واضح فرق بھی سامنے آ رہا ہے اور پاکستان اس دوڑ میں خاصا پیچھے دکھائی دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ: پاکستان کی گل فیروزہ سمیت خواتین اور مرد کرکٹرز کی نامزدگیاں سامنے آگئیں
وی نیوز انگلش کی رپورٹ کے مطابق چند ممالک نے خواتین کرکٹ کے لیے مکمل پیشہ ورانہ نظام قائم کر لیا ہے جبکہ کئی مکمل رکن (فل ممبر) ممالک اب بھی محدود سرمایہ کاری، انتظامی مسائل اور سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے عالمی معیار تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی فرق مضبوط اور کمزور ٹیموں کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھا رہا ہے۔
آسٹریلیا خواتین کرکٹ کا معیار بن گیا
آسٹریلیا نے طویل المدتی منصوبہ بندی، مسلسل سرمایہ کاری اور مضبوط ڈومیسٹک نظام کے ذریعے خواتین کرکٹ میں اپنی برتری قائم کی ہوئی ہے۔
آسٹریلوی ٹیم اب تک 7 ون ڈے ورلڈ کپ اور 7 ٹی20 ورلڈ کپ جیت چکی ہے جبکہ حال ہی میں اس نے سال 2026 کے ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں میزبان انگلینڈ کو شکست دے کر ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔
کرکٹ آسٹریلیا نے خواتین اور مرد کرکٹرز کے درمیان آمدنی کے فرق کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ معاہدے کے تحت خواتین کھلاڑیوں کو کرکٹ آمدنی کا 30 فیصد حصہ ملتا ہے جبکہ ویمنز بگ بیش لیگ دنیا کی مضبوط ترین خواتین کرکٹ لیگز میں شمار ہوتی ہے۔
اسی مضبوط نظام کی بدولت آسٹریلیا کی نمایاں خواتین کرکٹرز سالانہ 8لاکھ آسٹریلوی ڈالر سے زائد آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔
انگلینڈ اور بھارت بھی تیزی سے آگے بڑھے
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے خواتین اور مرد کرکٹرز کی بین الاقوامی میچ فیس برابر کر دی جبکہ ڈومیسٹک سطح پر بھی کم از کم معاوضوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
اسی طرح دی ہنڈرڈ لیگ نے خواتین کرکٹ کو نئی تجارتی شناخت دی اور نوجوان ٹیلنٹ کے لیے مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا۔
دوسری جانب بھارت نے بھی خواتین کرکٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے سنہ 2022 میں خواتین اور مرد کھلاڑیوں کی بین الاقوامی میچ فیس برابر کی جبکہ ویمنز پریمیئر لیگ کے آغاز نے خواتین کرکٹ کو ایک منافع بخش تجارتی منصوبہ بنا دیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں خواتین کرکٹ کا مستقبل روشن ہے، محسن نقوی، شاندار کارکردگی پر قومی ٹیم کو مبارکباد
اگرچہ خواتین اور مرد کھلاڑیوں کے معاہدوں میں اب بھی فرق موجود ہے لیکن سرمایہ کاری کے باعث بھارت کا ڈومیسٹک ڈھانچہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ بھی نسبتاً محدود مالی وسائل کے باوجود بہتر ڈومیسٹک معاہدوں، مضبوط ترقیاتی پروگرامز اور مستقل سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان خواتین کرکٹ میں کن مشکلات کا شکار ہے؟
پاکستانی خواتین ٹیم نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر کچھ پیشرفت ضرور کی ہے تاہم کئی بنیادی مسائل اب بھی اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
سال2026 ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اپنے تمام میچز ہار کر گروپ میں آخری نمبر پر رہا۔ پوری مہم کے دوران بیٹنگ سب سے بڑا مسئلہ ثابت ہوئی جہاں نوجوان اور غیر تجربہ کار بیٹرز عالمی معیار کی بولنگ کے سامنے خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکیں۔
پاکستان کی سابق کپتان ثنا میر کے مطابق یہ مسائل کسی ایک ٹورنامنٹ تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مجموعی کرکٹ ڈھانچے سے جڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا سے بھی 113 رنز کی شکست، پاکستان کا ٹورنامنٹ میں سفر تمام ہوا
ان کے مطابق پاکستان میں ایک بیٹر کو مکمل طور پر تیار ہونے میں 8 سے 9 سال لگ جاتے ہیں کیونکہ ڈومیسٹک نظام مستقل بنیادوں پر بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی پیدا نہیں کر پا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چار تجربہ کار بیٹرز کو ٹیم سے باہر کرنے پر انہیں پہلے ہی خدشات تھے، اگرچہ ٹیم نے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرکے اچھی کارکردگی دکھائی تھی، لیکن کوالیفائر اور ورلڈ کپ کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا۔
سابق فاسٹ بولر تنویر احمد کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کا ٹیلنٹ پول محدود ہے اور سماجی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں تاہم ٹیم انتظامیہ کو بھی ایک متوازن اور کامیاب ٹیم میں غیرضروری تبدیلیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
مالی مسائل سب سے بڑی رکاوٹ
ماہرین کے مطابق پاکستان میں خواتین کرکٹ کی سب سے بڑی مشکل مالی وسائل کی کمی ہے۔
خواتین کرکٹ کا زیادہ تر انحصار مردوں کی کرکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہے جس کے باعث طویل المدتی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔
آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت کے برعکس پاکستان کرکٹ بورڈ ابھی تک ایسی خواتین فرنچائز لیگ متعارف نہیں کرا سکا جو نہ صرف کھلاڑیوں کو بہتر مواقع دے بلکہ مالی طور پر بھی خودمختار ہو۔
یہ بھی پڑھیے: بگ بیش لیگ کے لیے پاکستان کے کتنے مرد و خواتین کرکٹرز کی نامزدگیاں ہوئیں؟
اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقوں میں سماجی اور ثقافتی رکاوٹیں بھی لڑکیوں کی کرکٹ میں شرکت محدود کرتی ہیں جس کے باعث قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کا دائرہ بھی محدود رہتا ہے۔
افغانستان کی صورتحال منفرد مگر تشویشناک
افغانستان خواتین کرکٹ کے حوالے سے ایک منفرد مثال بن چکا ہے۔
سنہ 2021 میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد افغانستان کرکٹ بورڈ کا خواتین کرکٹ پروگرام تقریباً ختم ہو گیا اور بیشتر خواتین کھلاڑی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔
اس وقت سابق افغان خواتین کرکٹرز آسٹریلیا میں مختلف مقامی کرکٹ اداروں اور آزاد تنظیموں کی مدد سے تربیت حاصل کر رہی ہیں جبکہ افغانستان کی مردوں کی ٹیم بدستور عالمی مقابلوں میں شریک ہے اور افغانستان آئی سی سی کا مکمل رکن بھی برقرار ہے۔
مزید پڑھیں : فاطمہ ثنا نے تاریخ رقم کر دی، ویمنز دی ہنڈرڈ کھیلنے والی پہلی پاکستانی کرکٹر بن گئیں
اس صورتحال نے آئی سی سی کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا کیا ہے کہ وہ خواتین کرکٹ کے فروغ کی اپنی پالیسی اور افغانستان کے مخصوص حالات کے درمیان توازن کیسے قائم کرے۔
پاکستان بہتری کیسے لا سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت کی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ مضبوط ڈومیسٹک نظام، بہتر کوچنگ، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور مستقل سرمایہ کاری ہی عالمی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ گراس روٹ سطح پر کرکٹ کو فروغ دیں، ڈومیسٹک مقابلوں کو مضبوط بنائیں اور خواتین کرکٹ میں نجی سرمایہ کاری اور اسپانسرشپ بڑھانے پر توجہ دیں۔
پاکستان میں خواتین پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر کئی بار بات ہو چکی ہے تاہم اب تک اتنی تجارتی دلچسپی پیدا نہیں ہو سکی جو اس منصوبے کو مستقل بنیادوں پر کامیاب بنا سکے۔
مزید پڑھیے: فاطمہ ثنا کا ایک اور سنگ میل: صرف 15 گیندوں پر نصف سینچری بناکر ٹی 20 کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
ماہرین کے مطابق مستقبل میں آئی سی سی کی فنڈنگ اور ترقیاتی پالیسی بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر رکن ممالک کو خواتین کرکٹ میں عملی پیشرفت، ڈومیسٹک ڈھانچے اور گراس روٹ پروگرامز کی بنیاد پر مالی معاونت دی جائے تو عالمی خواتین کرکٹ میں موجود فرق کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔













