چین نے 2026 سے 2030 تک کے لیے اپنے 15ویں 5 سالہ ترقیاتی منصوبے کے تحت روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، بے روزگاری کی شرح کو 5.5 فیصد سے کم رکھنے، سماجی تحفظ کے نظام کو وسعت دینے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے روزگار کے شعبے کو جدید بنانے کے اہداف مقرر کر دیے ہیں۔
چین کی وزارت انسانی وسائل و سماجی تحفظ نے 2026 سے 2030 تک کے 15ویں 5 سالہ منصوبے کے تحت روزگار، سماجی تحفظ اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں کے لیے جامع ترقیاتی منصوبہ جاری کر دیا ہے، جس میں آئندہ 5 برس کے دوران شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں پیدا کرنے اور بے روزگاری کی شرح کو 5.5 فیصد کے اندر رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
🚨 WOW! Host Amanda Yee reveals Beijing's massive new blueprint to guarantee healthcare and education for 85 MILLION disabled citizens.
While Washington loots taxpayers to fund endless overseas wars, China is actively using AI to eradicate poverty and create a million jobs! pic.twitter.com/ZEHt7RVO53
— BRICS+TODAY (@Afrijustice4all) July 11, 2026
شِنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق منصوبے میں سات بڑے اہداف اور 18 قابلِ پیمائش اشاریے شامل کیے گئے ہیں۔ وزارت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس دوران معیاری اور پائیدار روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
منصوبے کے تحت 2 کروڑ 50 لاکھ بے روزگار شہریوں کو دوبارہ ملازمتیں فراہم کرنے جبکہ روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے والے 65 لاکھ افراد کو خصوصی معاونت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کے گوانگ شی میں طوفانی بارشوں سے تباہی، امدادی اور بحالی کی کارروائیاں تیز
حکومت نے پیشہ ورانہ مہارتوں کی ترقی کو بھی ترجیح دی ہے۔ اس مقصد کے لیے 5 کروڑ سے زائد افراد کو سبسڈی کے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی، جن میں ایک کروڑ 75 لاکھ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مزدور بھی شامل ہوں گے۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں بنیادی پنشن انشورنس کی کوریج 95 فیصد سے زیادہ رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بے روزگاری انشورنس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 25 کروڑ 50 لاکھ اور ورک انجری انشورنس سے مستفید افراد کی تعداد 34 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔
Chinese authorities unveiled key workforce targets for the 2026-30 period on Thursday, pledging to reemploy millions of laid-off #workers, ensure near-universal pension coverage and strengthen injury protection for gig workers. #China #employment #economy https://t.co/H3AC8OYxGF pic.twitter.com/qJ33X0ODwE
— China Daily (@ChinaDaily) July 10, 2026
منصوبے کے مطابق انٹرپرائز اینویٹی اور پیشہ ورانہ پنشن فنڈز کا حجم 9 کھرب یوآن سے تجاوز کر جائے گا۔ اسی طرح ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو پیشہ ورانہ اہلیت کے سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں گے، ہر سال 35 ہزار پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین بھرتی کیے جائیں گے، جبکہ 4 کروڑ افراد کی پیشہ ورانہ مہارتوں کی تصدیق کی جائے گی۔
چینی حکومت نے مصنوعی ذہانت کو بھی اس منصوبے کا اہم حصہ بنایا ہے۔ وزارت کے مطابق اے آئی کے ذریعے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے، کم از کم اجرت کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا، نئی طرز کی ملازمتوں کے لیے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور قومی سماجی انشورنس خدمات کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات چین میں اعلیٰ معیار کے روزگار، مضبوط سماجی تحفظ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔














