وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف شاپنگ مال میں رنگا رنگ مینگو فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جہاں ملک بھر سے آم کی درجنوں اقسام نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔ فیسٹیول کا مقصد نہ صرف پاکستانی آم کی مختلف اقسام کو عوام کے سامنے لانا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس کی برآمدات میں اضافہ اور زرعی شعبے کو فروغ دینا بھی ہے۔
فیسٹیول کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے منتظم سردار یاسر نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی مینگو فیسٹیول پورے جوش و خروش سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایونٹ کے ذریعے پاکستان کی زرعی معیشت، خصوصاً مینگو انڈسٹری کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقامی کاشتکاروں، تاجروں اور بین الاقوامی خریداروں کے درمیان مؤثر روابط قائم کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سال فیسٹیول میں فارمرز مارکیٹ کا تصور بھی متعارف کرایا گیا ہے، جہاں کاشتکار براہ راست اپنی مصنوعات کی نمائش کر سکیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستانی آم کی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
سردار یاسر کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی دنیا کے بہترین آم پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال بڑی مقدار میں آم مختلف ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال بھی 100 سے زائد غیر ملکی سفارتکاروں، تجارتی نمائندوں اور بین الاقوامی خریداروں کو مینگو فیسٹیول میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ پاکستانی آم کے معیار، ذائقے اور مختلف اقسام سے براہ راست آگاہ ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آم کی عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کے لیے صرف برآمدات ہی نہیں بلکہ پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ، پیکیجنگ اور شیلف لائف بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے زرعی ماہرین اور تحقیقی ادارے جدید طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں تاکہ آم کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکے اور اسے دور دراز عالمی منڈیوں تک بہتر حالت میں پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ملتان کی زرعی یونیورسٹی سمیت مختلف زرعی ماہرین اور ادارے اس منصوبے میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں، جبکہ جدید تحقیق کے ذریعے آم کی پیداوار، معیار اور برآمدی صلاحیت میں بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
فیسٹیول میں صرف آم ہی نہیں بلکہ آم سے تیار ہونے والی مختلف مصنوعات بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنیں۔ شرکا کو آم سے تیار کردہ جیم، مارملیڈ، اچار، چٹنی، شیکس، ڈیزرٹس اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی پیش کی گئیں تاکہ لوگوں کو یہ بتایا جا سکے کہ آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ ایک مکمل زرعی صنعت کی بنیاد بھی ہے۔
منتظمین کے مطابق مینگو فیسٹیول عوام، کسانوں، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی خریداروں کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا ذریعہ بن رہا ہے، جبکہ اس طرح کے ایونٹس پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔













