فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو نے کہا ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم 2030 کے ورلڈ کپ سے قبل ٹیموں کی تعداد میں مزید 16 کا اضافہ کرکے اسے 64 تک پہنچانے کے امکان کا جائزہ لے گی۔
ایک انٹرویو میں جیانی انفینٹینو نے کہاکہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنا موزوں ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: سیمی فائنل لائن اپ مکمل، کون کس کے مدمقابل ہوگا؟
انہوں نے کہاکہ موجودہ ورلڈ کپ کے بعد اس معاملے کا متعلقہ کمیٹیوں میں ضرور جائزہ لیا جائے گا اور اس پر گفتگو ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ورلڈ کپ کا انعقاد صرف یورپ اور جنوبی امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہونا چاہیے، ہر ملک کو عالمی کپ میں شرکت کا خواب دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میں ٹیموں کا معیار بہت بلند ہوچکا ہے اور مسلسل بہتر ہورہا ہے۔ اگر چھوٹے ممالک کو ورلڈ کپ میں شرکت کا موقع نہ دیا جائے تو ان کے پاس اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ترغیب کم ہوجائے گی۔
2026 کا ورلڈ کپ پہلی بار 48 ٹیموں کے ساتھ
1998 سے 2022 تک فیفا ورلڈ کپ میں 32 ٹیمیں شرکت کرتی رہیں، جبکہ 2026 کا موجودہ ایڈیشن پہلی مرتبہ 48 ٹیموں کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔
موجودہ ٹورنامنٹ میں اب ارجنٹینا، انگلینڈ، فرانس اور اسپین کی ٹیمیں باقی ہیں۔ ابتدائی طور پر طے شدہ 104 میچوں میں سے اب صرف 2 سیمی فائنلز اور فائنل باقی ہیں۔
یہ مقابلے کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کے مختلف شہروں میں منعقد کیے گئے ہیں۔
فیفا صدر نے 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہر ٹیم نے اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہر براعظم کی ٹیموں نے گول کیے اور کم از کم ایک پوائنٹ حاصل کیا۔ افریقہ کی 10 میں سے 9 ٹیموں نے ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنائی، جبکہ گزشتہ ورلڈ کپ میں صرف 5 افریقی ٹیمیں شریک تھیں۔
ان کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تمام ٹیموں کو عالمی کپ میں شرکت کا موقع دینا کس قدر اہم ہے۔
2030 کا ورلڈ کپ 3 براعظموں میں کھیلا جائے گا
واضح رہے کہ2030 کا فیفا ورلڈ کپ مختلف براعظموں میں منعقد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں نیا حیران کن منفرد ریکارڈ کیا ہے؟
ابتدائی 3 میچ یوراگوئے، ارجنٹینا اور پیراگوئے میں کھیلے جائیں گے، جہاں ہر ملک ایک میچ کی میزبانی کرے گا، جبکہ باقی مقابلے مراکش، پرتگال اور اسپین میں منعقد ہوں گے۔
اگر ٹیموں کی تعداد 64 کردی گئی تو امکان ہے کہ جنوبی امریکا کے تینوں میزبان ممالک ایک ایک 4 رکنی گروپ کے تمام میچوں کی میزبانی کرسکیں گے، بجائے اس کے کہ ہر ملک میں صرف ایک میچ کھیلا جائے۔













