یومِ شہدائے کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا 22 شہدائے 1931 کو خراجِ عقیدت، حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر 1931ء کے 22 شہدائے کشمیر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں اور پاکستان ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کرے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، فوجی محاصرہ ختم کرے اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں سے باز رہے۔

مزید پڑھیں: یومِ شہدائے کشمیر: شہباز شریف کا حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات غیر قانونی تھے، جبکہ تنازعٔ جموں و کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

صدر زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ صدرِ مملکت نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدائے کشمیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 13 جولائی 1931ء کو سری نگر میں ڈوگرہ حکومت کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 22 کشمیریوں کی قربانی جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی بیداری، وقار، بنیادی حقوق اور شناخت کی جدوجہد میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی۔

مزید پڑھیں:اسحاق ڈار کا کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم نے کہا کہ یومِ شہدائے کشمیر کشمیری عوام کے عزم، جرات اور ثابت قدمی کی علامت ہے، جنہوں نے نسل در نسل اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں شدید عسکری موجودگی، سیاسی جبر، من مانی گرفتاریاں، اظہارِ رائے اور میڈیا پر پابندیوں، نیز آبادی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ ان اقدامات کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں نے بھی نشاندہی اور مذمت کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کشمیری شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا انحصار اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعٔ جموں و کشمیر کے پرامن حل پر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp