کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر حملہ: پولیس نے جُرم کی منصوبہ بندی اور سہولت کار نیٹ ورک کی تفصیلات جاری کر دیں

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں گزشتہ ماہ پاکستان رینجرز (سندھ) کے کیمپ پر ہونے والے مہلک حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر عرف قاری حبیب کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کو افغانستان میں تربیت دی گئی اور انہیں وہاں سے معاونت حاصل تھی۔

کراچی پولیس نے منگل کو صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ رینجرز کیمپ حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے عناصر کا کردار سامنے آیا ہے۔

گلستان جوہر میں رینجرز کیمپ پر حملہ

پولیس کے مطابق 27 جون کی رات کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں پاکستان رینجرز (سندھ) کے مقامی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملے میں 3 سیکیورٹی اہلکار شہید جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ حملہ آور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے تعلق رکھتے تھے، جسے بھارتی حمایت یافتہ پراکسی گروپ قرار دیا گیا۔ جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا، جس کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی۔

حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کا دعویٰ

کراچی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس عرفان بہادر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملے کی مکمل منصوبہ بندی، دہشتگردوں کی تربیت اور کارروائی کے مراحل میں افغانستان سے رابطوں کے شواہد ملے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رینجرز کی کارروائی کے بعد مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر عرف قاری حبیب کو گرفتار کیا گیا۔

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ دہشتگردوں کے مبینہ سہولت کار افغانستان سے انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ کراچی میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے، شہریوں کو یرغمال بنایا جائے اور شہر کا امن خراب کیا جائے۔

حملے کے 4 مراحل، پولیس نے تفصیلات جاری کر دیں

ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد چار مراحل میں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلا مرحلہ افغانستان میں دہشتگردوں کی منصوبہ بندی اور تربیت تھا۔ دوسرے مرحلے میں 4 افغان دہشتگردوں کو افغانستان سے کراچی منتقل کیا گیا۔ تیسرے مرحلے میں کراچی میں موجود سہولت کار گروپ کو افغانستان سے ہدایات اور معاونت فراہم کی گئی۔ چوتھے مرحلے میں دہشتگردوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور خودکش جیکٹس فراہم کی گئیں۔

پولیس افسر کے مطابق حملے کے آخری مرحلے تک دہشتگردوں کو افغانستان سے ہدایات ملتی رہیں۔

حملہ آوروں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

ایس ایس پی عرفان بہادر کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت جنان کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ فراہ سے تعلق رکھتا تھا۔

دوسرے حملہ آور کی شناخت بلال عرف ہادی کے طور پر کی گئی، جو پہلے باجوڑ کا رہائشی تھا اور بعد میں سرحد پار افغانستان کے شہر قندھار منتقل ہو گیا۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے تیسرے دہشتگرد کا نام عمر فاروق تھا، جو افغانستان کے صوبہ کنڑ کا رہائشی تھا۔

زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے دہشتگرد کی شناخت عثمان شیر محمد کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتا ہے۔

منصوبہ بندی میں مبینہ سہولت کاروں کے نام بھی سامنے آگئے

ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ حملے کی منصوبہ بندی میں بعض اہم افراد شامل تھے، جن میں نور ولی کا نام بھی شامل ہے، جسے پولیس نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سربراہ قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ شیر ولی عرف مخلص یار اور ٹی ٹی پی شوریٰ کے رکن سعید شاہ نے قاری بشیر کو حملے سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ پولیس کے مطابق ان افراد نے افغانستان سے قاری بشیر کو پاکستان بلا کر حملے کی ذمہ داری سونپی۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مزید جاری ہیں اور حملے میں شامل دیگر سہولت کاروں اور نیٹ ورک کے ارکان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن تیار، صوبائی حکومت سے مشاورت جاری

شہدا کی قربانیوں کو تنخواہ یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا، شہدا پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، حنیف عباسی

اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، انڈیکس تقریباً 5 ہزار پوائنٹس گر گیا

جیف بیزوس کی سابق اہلیہ میکینزی اسکاٹ کا نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے 2 کروڑ ڈالر کا تاریخی عطیہ

جج کے ڈیسک پر کالا جادو کرنے والی 65 سالہ خاتون کمرہ عدالت سے گرفتار

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم