بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع چکبالاپور میں ایک انوکھا اور حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 65 سالہ خاتون کو جج کی کرسی اور ڈیسک پر کالا جادو کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ خاتون کا ماننا تھا کہ اس عمل سے عدالت میں زیر التوا سول کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو جائے گا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ 9 جولائی 2026ء کو صبح تقریباً 9:40 بجے چکبالاپور میں فرسٹ ایڈیشنل سینئر سول جج کی عدالت میں پیش آیا۔ ملزمہ، جس کی شناخت ‘منجولا’ کے نام سے ہوئی ہے اور وہ چکبالاپور کی رہائشی ہے، خالی کمرہ عدالت میں داخل ہوئی اور جج کی کرسی اور ڈیسک (Dais) پر مبینہ طور پر کالے جادو کے جادوئی عمل کے تحت سفید سرسوں کے بیج بکھیر دیے۔
یہ بھی پڑھیے کیا آئی پی ایل میں چنئی سپر کنگز کو شکست جادو ٹونے کی وجہ سے ہوئی؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑگئی
بعد میں جب عدالتی عملے نے جج کی کرسی کے پاس سفید سرسوں کے بیج بکھرے ہوئے دیکھے تو انہیں شک ہوا، جس پر انہوں نے کمرہ عدالت میں لگے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمروں کی فوٹیج چیک کی۔ فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ منجولا کمرہ عدالت میں داخل ہو کر یہ بیج بکھیر رہی ہے۔
عدالت کی چیف ایڈمنسٹریٹو آفیسر ‘نیترا’ نے فوری طور پر مقامی تھانے میں شکایت درج کروائی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کرتے ہوئے 11 جولائی کو خاتون کو گرفتار کر لیا۔ عدالت نے ملزمہ کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
وجہ کیا تھی؟
پولیس کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ منجولا کے خاندان کا ایک سول (دانی) تنازع اسی عدالت میں زیر التوا ہے، جس میں اس کا بھائی وینکٹ راما تیسرا فریق ہے۔ خاتون نے اس وہم اور امید کے تحت جادو کا یہ عمل کیا کہ اس سے عدالت کا فیصلہ ان کے خاندان کے حق میں بدل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے انڈیا: ضعیف خاتون کو ‘چڑیل’ قرار دے کر قتل کردیا گیا، منصوبہ 5 سال پرانا تھا
پولیس نے خاتون کے خلاف کرناٹک کے غیر انسانی شیطانی ہتھکنڈوں اور کالا جادو روک تھام ایکٹ، 2017ء کے تحت کیس درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔














