آزاد جموں و کشمیر کی سابق وزیر حکومت اور سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب کی صاحبزادی فرزانہ یعقوب نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، کشمیریوں کا یہ ایمان ہے کہ ایک دن کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ایسے حالات میں حکومت اور احتجاج کرنے والوں، دونوں کو ایسے بیانات اور اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے حالات مزید خراب ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری قوم نے ماضی میں بھی بڑے مشکل ادوار دیکھے ہیں، اس لیے انہیں یقین ہے کہ موجودہ بحران بھی بالآخر حل ہو جائےگا۔
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، کبھی محبت اور کبھی غصے کا اظہار بھی ہوتا ہے، تاہم پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان رشتہ مضبوط ہے اور موجودہ مشکلات کے باوجود حالات بہتر ہوں گے۔
پاکستان کے ساتھ تعلق پر احتجاجی قیادت کی وضاحت خوش آئند قرار
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ سوشل میڈیا پر بعض ایسی چیزیں بھی سامنے آ رہی ہیں جو مثبت ہیں۔ ان کے مطابق احتجاجی قیادت بار بار یہ وضاحت کر رہی ہے کہ ان کے مائیک کا غلط استعمال ہوا اور بعض بیانات ان کا مؤقف نہیں تھے۔
انہوں نے کہاکہ احتجاجی رہنما مسلسل یہ بھی واضح کر رہے ہیں کہ ان کا پاکستان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، جو موجودہ حالات میں ایک مثبت پیشرفت ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی احتجاج کے دوران بجلی کے نرخوں اور آٹے کی قیمتوں سے متعلق مطالبات سامنے آئے تھے، جن کے بعد بجلی کے بلوں میں ریلیف اور آٹے پر سبسڈی دی گئی، جو دراصل حکومت پاکستان کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے ذریعے ممکن ہوئی۔
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ اس مرحلے پر وہ خود بھی احتجاج کرنے والوں کے حق میں مؤقف رکھتی تھیں کیونکہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔
سابق وزیراعظم کے کردار پر تنقید
انہوں نے کہاکہ احتجاج کے دوسرے مرحلے میں اس وقت کے وزیراعظم نے معاملے کو سنبھالنے کے بجائے مزید خراب کرنے میں کردار ادا کیا، جس کے باعث انہیں عہدے سے ہٹانا پڑا۔
ان کے بقول اگر وہ اپنے منصب پر برقرار رہتے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی، اسی لیے دسمبر 2025 میں قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا۔
جانی نقصان کے بعد خاموشی اور تحمل ضروری ہے
فرزانہ یعقوب نے کہا کہ جب کسی تنازع میں دونوں جانب جانی نقصان ہو جائے تو جذبات کو ٹھنڈا ہونے کا موقع دینا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ احتجاج کے دوران نہ صرف مظاہرین بلکہ پولیس اہلکار بھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس لیے ایسے واقعات کے بعد فوری طور پر اشتعال انگیز سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ احتجاجی کمیٹی نے مختلف شخصیات اور جماعتوں سے ثالثی کی درخواست کی، جن میں جماعت اسلامی بھی شامل تھی، تاہم ہر جانب سے یہی مؤقف سامنے آیا کہ پہلے احتجاج ختم کیا جائے، پھر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عوام سے متعلق بیشتر مطالبات، جن میں سستی بجلی اور سستا آٹا شامل ہیں، پورے کیے جا چکے ہیں، اس لیے اب مذاکرات کے ذریعے باقی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
27 جولائی کو انتخابات وقت پر ہونے کی امید
آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے فرزانہ یعقوب نے کہاکہ اب تک الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کی کوشش یہی ہے کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی ایک اہم روایت یہ رہی ہے کہ یہاں انتخابات کبھی نہ قبل از وقت ہوئے ہیں اور نہ ہی مؤخر کیے گئے ہیں، جو باعث اطمینان ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگرچہ موجودہ حالات کے باعث انتخابی سرگرمیوں میں وہ رونق نظر نہیں آ رہی جو عام طور پر انتخابات کے دوران ہوتی ہے، تاہم انہیں امید ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے، نئی قانون ساز اسمبلی وجود میں آئے گی اور عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نئی حکومت کا انتخاب کریں گے۔
فرزانہ یعقوب نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ آئندہ الیکشن میں فی الحال کوئی ایک جماعت واضح اکثریت حاصل کرتی دکھائی نہیں دے رہی، تاہم حتمی فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔
بیرونی مداخلت کے الزامات پر شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں
فرزانہ یعقوب نے آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کے دوران بیرونی مداخلت سے متعلق سامنے آنے والے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ بیرونی عناصر متحرک ہیں، بیرون ملک سے فنڈنگ ہو رہی ہے، بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے کردار کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم ان تمام دعوؤں کے حوالے سے عوام کے سامنے ٹھوس شواہد پیش کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز میں آزاد جموں و کشمیر پولیس نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا تھا جو حساس تنصیبات کی تصاویر اور لوکیشنز پیسوں کے عوض شیئر کر رہا تھا۔ اس کارروائی کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی گئیں، جس سے لوگوں کو صورتحال سمجھنے میں مدد ملی۔
پولیس حقائق اور شواہد سامنے لائے
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں بھی اگر بیرونی مداخلت یا غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق الزامات موجود ہیں تو آزاد کشمیر پولیس کو چاہیے کہ وہ ماضی کی طرح پریس کانفرنس کرکے تمام حقائق، شواہد اور تحقیقات عوام کے سامنے پیش کرے۔
انہوں نے کہاکہ جیسے ہی یہ شواہد سامنے آئیں گے، اس سے نہ صرف شکوک و شبہات دور ہوں گے بلکہ وہ لوگ بھی حقیقت جان سکیں گے جو غلط معلومات یا پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف یہ کہا جا رہا ہے کہ بیرونی عناصر سرگرم ہیں، مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون لوگ ملوث ہیں، فنڈنگ کس ذریعے سے ہوئی اور کن ذرائع سے یہ سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ بہت سے افراد کے نام لیے جا رہے ہیں، تاہم وہ اس معاملے میں انتہائی احتیاط کی قائل ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی شخص پر تحقیقاتی اداروں کی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے الزام عائد کرنا یا اسے قصوروار قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ممکن ہے اس حوالے سے مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہوں، لیکن جب تک تحقیقاتی ادارے اور متعلقہ حکام باقاعدہ ثبوت کے ساتھ عوام کو آگاہ نہیں کرتے، اس وقت تک کسی کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈس انفارمیشن رپورٹس جیسی بریفنگ کی ضرورت
انہوں نے کہاکہ ماضی میں جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے بریفنگ دی تھی اور بھارت کے ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق رپورٹس سامنے آئی تھیں تو ان کا عوام پر مثبت اثر پڑا تھا۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں بھی اسی نوعیت کی جامع بریفنگ کی ضرورت ہے، جس میں واضح طور پر بتایا جائے کہ کون سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مخصوص بیانیہ پھیلا رہے ہیں، کون سے عناصر مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور کس انداز میں حالات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ حالیہ پریس کانفرنس میں اس حوالے سے کچھ اشارے ضرور دیے گئے ہیں، جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ متعلقہ ادارے جلد تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں گے تاکہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کنٹرول بدستور سخت ہے
فرزانہ یعقوب نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا وہاں کنٹرول انتہائی سخت ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام اسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں اظہارِ رائے کی آزادی شدید پابندیوں کا شکار ہے اور لوگ آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہاکہ جب بھی کسی کشمیری آزادی پسند کی شہادت ہوتی ہے اور لوگ اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے نکلتے ہیں تو وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر باہر آتے ہیں، کیونکہ بھارتی فوج ہر وقت موجود ہوتی ہے اور طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرتی۔
پیلٹ گنز بھی کشمیریوں کے لیے جان لیوا ہتھیار ہیں
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ بھارت پیلٹ گنز کو عام ہتھیار قرار دیتا ہے، حالانکہ ان سے لوگ بینائی سے محروم ہو جاتے ہیں، معذور ہو جاتے ہیں اور جسم کے مختلف اعضا مستقل طور پر متاثر ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 میں جب بھارت نے آئینی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے یونین ٹیریٹریز میں تبدیل کیا تو اس دوران پیلٹ گنز سے متاثرہ کشمیریوں کی ایکسرے تصاویر دنیا بھر میں سامنے آئیں، جن سے ان ہتھیاروں کے تباہ کن اثرات واضح ہوئے۔
2019 کے بھارتی اقدام نے کشمیریوں میں مایوسی پیدا کی
فرزانہ یعقوب نے کہا کہ 2019 میں بھارت کی جانب سے کیے گئے آئینی اقدامات نے کشمیری عوام کو شدید مایوسی سے دوچار کیا۔ ان کے مطابق یہ صرف آئینی تبدیلی نہیں تھی بلکہ کشمیری شناخت، ملکیت اور حقوق پر براہ راست حملہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکے میں پاک فوج کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب ملا، جس سے کشمیری عوام کو خوشی ہوئی۔
انہوں نے موجودہ احتجاجی صورتحال کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسائل ہر معاشرے میں ہوتے ہیں اور موجودہ بحران بھی انشااللہ مذاکرات اور دانشمندی سے حل ہو جائےگا۔
عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ معاشرے میں اعتماد کی بحالی اور عوام کو دوبارہ یکجا کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ مکمل فعال اسپتال، معیاری اسکول اور کالجز، روزگار کے مواقع، بہتر سڑکیں، بجلی، صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہیں اور ان شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا بلکہ پورے معاشرے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
سیاحت کو نقصان، رابطہ سڑکوں کی بہتری ضروری
انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال کے باعث آزاد کشمیر کا سیاحتی سیزن شدید متاثر ہوا ہے، جس سے خطے کو ایک بڑی معاشی سرگرمی سے محروم ہونا پڑا۔ تاہم انہیں امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے اور سیاحت دوبارہ بحال ہوگی۔
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ آزاد کشمیر کے اندر سڑکوں کی حالت نسبتاً بہتر ہے، تاہم مری اور دیگر داخلی راستوں سے آزاد کشمیر کو ملانے والی رابطہ شاہراہوں کی حالت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کشادہ سڑکیں اور جدید بائی پاس تعمیر کیے جائیں تاکہ سیاح اور مسافر آسانی سے آزاد کشمیر پہنچ سکیں۔
زیادہ تر اصلاحات آزاد کشمیر کے اندر کرنا ہوں گی
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کشمیریوں کو روزگار، کاروبار یا دیگر شعبوں میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔ کشمیری فوج، بیوروکریسی، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے بنیادی توجہ آزاد کشمیر کے اندر عوامی سہولیات اور حکومتی کارکردگی بہتر بنانے پر ہونی چاہیے۔
حالیہ احتجاج سیاسی قیادت کے لیے ویک اپ کال ہے
فرزانہ یعقوب نے کہاکہ حالیہ احتجاج آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کے لیے ایک بڑی ویک اپ کال ہے۔ ان کے مطابق عوام اب صرف انتخابات کے دن ہی نہیں بلکہ ہر وقت اپنے نمائندوں کا احتساب کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی تاکہ مستقبل میں عوام کو اپنے مطالبات کے لیے دوبارہ سڑکوں پر آنے کی نوبت نہ آئے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر اس تمام صورتحال سے کوئی مثبت سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں عوامی خدمت، شفاف طرزِ حکمرانی اور بہتر کارکردگی کو اپنی ترجیح بنائیں، تاکہ ریاستی اداروں اور عوام کو دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑا ہونے کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔













