پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت میں ریکارڈ وسعت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ملک نے مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 4.5 ارب امریکی ڈالر مالیت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی مصنوعات اور خدمات برآمد کر کے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.475 ارب امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم رواں مالی سال 2025-26 کے دوران اس شعبے نے اپنی بے مثال اور بلا تعطل ترقی کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ اس شاندار کارکردگی کی بنیادی وجہ پاکستانی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے روایتی امریکی اور یورپی منڈیوں سے ہٹ کر نئی بین الاقوامی منڈیوں کا رخ کرنا ہے۔
ایشیائی منڈیوں پر توجہ اور نئے شعبوں میں پیش رفت
آئی ٹی ایکسپرٹ فرحان احمد کے مطابق، روایتی طور پر صرف امریکا اور یورپ پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اب یہ کمپنیاں تیزی سے ایشیا بحرالکاہل کے خطے، بالخصوص جاپان اور سنگاپور جیسی بڑی منڈیوں میں اپنے قدم جما رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری میں نہ صرف روایتی سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی خدمات بلکہ کئی دیگر ہائی گروتھ شعبوں نے بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ان میں بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ، سافٹ ویئر ایز اے سروس اور آن لائن گیمنگ انڈسٹری شامل ہیں۔ پاکستانی نوجوان انتہائی ہنرمند ہیں اور عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں کم لاگت افرادی قوت کی بدولت بین الاقوامی سطح پر اپنی کاروباری ترقی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈیوں، فنانشل انفراسٹرکچر اور ادائیگیوں کے نظام کی اہمیت
فری لانس انڈسٹری کے ماہر طفیل احمد خان کے مطابق، یہ پائیدار ترقی پاکستان کی ڈیجیٹل خدمات کی مسلسل عالمی مانگ اور متعدد بین الاقوامی منڈیوں میں آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے پر انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی توجہ کی عکاس ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایشیا بحرالکاہل میں کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ضروری ہے کہ کمپنیاں وہاں کے مقامی ادائیگیوں کے مختلف نظاموں کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور محفوظ ادائیگیوں کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے دیگر کرنسیوں میں ادائیگی کے مواقع
طفیل احمد خان کے مطابق، پاکستانی آئی ٹی برآمد کنندگان کی معاونت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کمپنیوں کو کثیر کرنسی ادائیگیوں کی جدید سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کی بدولت اب پاکستانی ٹیک کمپنیاں اور فری لانسرز دنیا کی بڑی بین الاقوامی کرنسیوں، بشمول امریکی ڈالر، یورو، برطانوی پاؤنڈ، کینیڈین ڈالر، آسٹریلین ڈالر، جاپانی ین اور سنگاپور ڈالر میں براہِ راست ادائیگیاں وصول کر سکیں گے اور اپنے فنڈز کا انتظام زیادہ آسانی سے کر سکیں گے، جس سے آنے والے دنوں میں ملکی برآمدات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔













