سپریم کورٹ نے ماہ رنگ بلوچ، بی بی بلوچ اور بی برگ کی ضمانت درخواستوں پر پروسیکیوٹر سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا تینوں درخواست گزاروں کے خلاف الگ الگ ایف آئی آرز درج ہیں، جس پر وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ ان کے تینوں مؤکلوں کے خلاف الگ الگ ایف آئی آرز درج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی اہلکار قتل کیس: ڈاکٹر ماہ رنگ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا
جسٹس محمد علی مظہر نے مزید استفسار کیا کہ مقدمات کا بنیادی ایشو کیا ہے اور ٹرائل کہاں تک پہنچا ہے۔
وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ ماہ رنگ بلوچ کے کیس میں 6 میں سے 2 گواہوں کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں۔
وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں شامل تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں۔
مزید پڑھیں: ماہ رنگ لانگو اور صبغت اللہ کو سزا، شہید سیکیورٹی اہلکار کے اہلخانہ کا عدالتی فیصلے پر اظہار اطمینان
جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ پہلے ایف آئی آر پڑھیں اور یہ بھی واضح کریں کہ یہ دفعات کیسے قابلِ ضمانت ہیں۔
اس پر وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ جن دفعات میں سزا 3 سال یا اس سے کم ہو، وہ قابلِ ضمانت ہوتی ہیں، جبکہ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف عائد تمام دفعات میں سزا 3 سال سے کم ہے۔
دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے پروسیکیوٹر اور دیگر فریقین کو ضمانت درخواستوں پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔














