حکومتِ پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سفری قوانین کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے وہ پاکستانی جن کا قومی شناختی کارڈ برائے سمندر پار پاکستانیز یعنی ’نیکوپ‘ زائد المیعاد یا منسوخ ہو چکا ہے، اب وہ ویزا حاصل کیے بغیر پاکستان میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔
گمراہ کن اور جعلی خبروں کی تردید
حکومتی ترجمان نے نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں ان افواہوں اور جعلی خبروں کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ برطانیہ کے تمام پاسپورٹ ہولڈرز پر ’نیکوپ‘ کے ذریعے انٹری بند کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی
ترجمان نے واضح کیا کہ جن بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے پاس ویلڈ (درست اور فعال) ’نیکوپ‘ موجود ہے، وہ حسبِ سابق بغیر ویزا کے اپنے غیر ملکی پاسپورٹ پر پاکستان کا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔
تمام ممالک کے لیے یکساں قوانین کا اطلاق
حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی ہدایات کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ برطانیہ، امریکا، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستوں سمیت دنیا بھر سے آنے والے تمام مسافروں پر یکساں لاگو ہوں گی۔
نئے قوانین کے تحت اگر کسی مسافر کا ’نیکوپ‘ ایکسپائر، غیر مؤثر یا منسوخ ہو چکا ہے، تو اسے فلائٹ لینے سے قبل ہر صورت میں پاکستانی سفارت خانے سے باضابطہ ویزا یا نیا ’نیکوپ‘ حاصل کرنا ہوگا۔
ایئر لائنز کے لیے سخت ترین وارننگ
حکومت نے تمام ملکی اور بین الاقوامی ایئر لائنز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مسافر کو جہاز پر سوار نہ ہونے دیں جس کے پاس کارآمد ’نیکوپ‘، کارآمد پاکستانی پاسپورٹ یا ویزا موجود نہ ہو۔
مزید پڑھیں:بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ، اپریل میں 3.53 ارب ڈالر وطن بھیجے گئے
ایئر لائنز کے اسٹیشن مینیجرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کو اس حوالے سے فوری طور پر بریف کریں اور بورڈنگ کے وقت مسافروں کے دستاویزات کی کڑی جانچ پڑتال کریں۔ ان قوانین پر عمل نہ کرنے والے مسافروں کے لیے کسی قسم کا کوئی استثنا یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔













