امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں قید ایک امریکی شہری کی رہائی کے اعلان کے بعد اس خاتون کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ امریکی ایرانی شہری اور امریکا میں قائم فلاحی ادارے ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ کی بانی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے رہا ہونے والی امریکی شہری کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ایرانی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا میں قائم فلاحی تنظیم ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ کی بانی بھی ہیں۔
🕹️Presiden Donald Trump mengonfirmasi bahwa Iran telah membebaskan seorang warga negara Amerika Serikat yang ditahan sejak Desember 2024:
– Warga yang dibebaskan tersebut adalah seorang perempuan bernama Dena Karari.
– Karari kini berada di luar Iran dalam keadaan aman dan baik pic.twitter.com/SDPTFdWb8L
— Global News (@NurSyahbana9) July 16, 2026
ڈینا کراری کے وکیل جیرڈ جنسر نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران سے بحفاظت روانہ ہو چکی ہیں اور امریکا واپس جا رہی ہیں۔
جیرڈ جنسر کے مطابق ڈینا کراری کو ایک ’دشمن ریاست‘ سے تعاون اور جاسوسی کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے باعث وہ ایران سے باہر نہیں جا سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی نے ان سے درجنوں مرتبہ پوچھ گچھ کی، جس دوران انہیں شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہیں باقاعدہ جسمانی حراست میں نہیں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ تابوت میں، تہران میں نصب بل بورڈ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا
ان کے وکیل نے بتایا کہ ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ ایران میں نجی عطیات کے ذریعے غریب بچوں کی مدد کرتی رہی ہے اور یہ سرگرمیاں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کے لائسنس کے تحت انجام دی جاتی تھیں۔
I am delighted and excited to report that my client U.S. citizen #DenaKarari, who had been trapped in #Iran since December 2024 on bogus charges is now free. This would not have happened but for the extraordinary and relentless efforts of President @realDonaldTrump. Dena is now…
— Jared Genser (@JaredGenser) July 15, 2026
جیرڈ جنسر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ اطلاع دیتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ان کی مؤکل ڈینا کراری اب بحفاظت ایران سے نکل چکی ہیں اور امریکا واپس جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان کی رہائی میں مدد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا۔














