ایران میں جاسوسی الزامات کا سامنا کرنے والی ڈینا کراری رہا، امریکا واپسی کے لیے روانہ

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں قید ایک امریکی شہری کی رہائی کے اعلان کے بعد اس خاتون کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ امریکی ایرانی شہری اور امریکا میں قائم فلاحی ادارے ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ کی بانی ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران سے رہا ہونے والی امریکی شہری کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ایرانی شہری ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا میں قائم فلاحی تنظیم ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ کی بانی بھی ہیں۔

ڈینا کراری کے وکیل جیرڈ جنسر نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایران سے بحفاظت روانہ ہو چکی ہیں اور امریکا واپس جا رہی ہیں۔

جیرڈ جنسر کے مطابق ڈینا کراری کو ایک ’دشمن ریاست‘ سے تعاون اور جاسوسی کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے باعث وہ ایران سے باہر نہیں جا سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس و سکیورٹی نے ان سے درجنوں مرتبہ پوچھ گچھ کی، جس دوران انہیں شدید ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہیں باقاعدہ جسمانی حراست میں نہیں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ تابوت میں، تہران میں نصب بل بورڈ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا

ان کے وکیل نے بتایا کہ ’چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن‘ ایران میں نجی عطیات کے ذریعے غریب بچوں کی مدد کرتی رہی ہے اور یہ سرگرمیاں امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کے لائسنس کے تحت انجام دی جاتی تھیں۔

جیرڈ جنسر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں یہ اطلاع دیتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ان کی مؤکل ڈینا کراری اب بحفاظت ایران سے نکل چکی ہیں اور امریکا واپس جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان کی رہائی میں مدد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp