پشاور میں روٹی مہنگی، وزن کم: ’روٹی پاپڑ سے بھی ہلکی ہوگئی ہے‘

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور میں نانبائی ایسوسی ایشن نے صوبائی حکومت سے روٹی کی قیمت میں 5 روپے اضافہ کرکے 25 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے، جب شہر میں نانبائی پہلے ہی روٹی کی قیمتوں میں 50 فیصد تک خودساختہ اضافہ کر چکے ہیں۔

پشاور میں سرکاری نرخ نامے کے مطابق 125 گرام روٹی کی قیمت 20 روپے جبکہ 240 گرام روٹی کی قیمت 30 روپے مقرر ہے، لیکن شہر میں 20 روپے میں کہیں بھی روٹی دستیاب نہیں۔ کم از کم 30 روپے کی روٹی فروخت کی جا رہی ہے، جس کا وزن بھی مقررہ معیار سے کم بتایا جاتا ہے۔

پشاور کے شہری علاقوں سے لے کر دیہی علاقوں تک نانبائی اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ 30 روپے میں بھی نسبتاً کم وزن کی روٹی فروخت کی جا رہی ہے۔

پشاور صدر کے رہائشی عدنان خان نے بتایا کہ شہر کے مصروف ترین صدر بازار میں بھی کوئی دیکھنے والا نہیں کہ نانبائی کس وزن کی روٹی کتنی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر تندور پر الگ نرخ ہیں۔ ایک جگہ روٹی 40 روپے میں مل رہی ہے تو دوسری جگہ وہی روٹی 30 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

روٹی کی قیمت میں خودساختہ اضافہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس کا وزن بھی کم کر دیا گیا ہے۔ روٹی اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ ایک شخص کا 3 روٹیوں سے بھی گزارا نہیں ہوتا۔

پشاور کے ایک اور رہائشی عیاں خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بنیادی مسائل پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومت کو اس کی نگرانی کرنی چاہیے، لیکن پشاور میں اس حوالے سے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے خیبر بازار زیادہ دور نہیں۔ کوئی ایک بار یہاں آ کر قیمتوں کا جائزہ لے لے تو اسے زمینی حقائق کا اندازہ ہو جائے گا۔

عیاں خان کے مطابق سرکاری حکام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اشیائے خورو نوش کی اصل قیمتیں کیا ہیں، لیکن وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ حکومت مناسب نرخ مقرر نہیں کرتی، اور پھر چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے مافیا کو من مانی کا موقع مل جاتا ہے۔

صوبائی حکومت کیا کہتی ہے؟

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں سے کسانوں سے براہِ راست گندم کی خریداری شروع کر رکھی ہے۔ تاہم اس کے باوجود مختلف اوقات میں آٹے کے بحران کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے پشاور میں ایک بار پھر آٹے کی قلت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے خوراک شفیع جان کے مطابق سرکاری گوداموں میں اس وقت ایک لاکھ 53 ہزار 933 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جبکہ نجی شعبے میں گندم اور آٹے کا تخمینہ شدہ ذخیرہ ایک لاکھ 14 ہزار 806 میٹرک ٹن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پولیس اہلکار اور عورت کا بہیمانہ قتل

انہوں نے صوبے میں آٹے کی قلت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال صوبے کے کسی بھی حصے میں گندم یا آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے اور مارکیٹ کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

شفیع جان روٹی کی قیمت میں اضافے کے معاملے پر کوئی واضح مؤقف دینے سے گریز کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر آٹے کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نانبائی کیا کہتے ہیں؟

پشاور کے نانبائیوں نے ضلعی انتظامیہ سے روٹی کی نئی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور موجودہ نرخ 20 روپے سے بڑھا کر 25 روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔

نانبائیوں کا مؤقف ہے کہ ایل پی جی اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور تقریباً ہر دوسرے دن نرخ بڑھ جاتے ہیں، جس کے باعث پرانے سرکاری نرخ نامے کے مطابق روٹی فروخت کرنا ان کے لیے خسارے کا باعث بن رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے تاحال نانبائیوں کے مطالبے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp