وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر سخت ترین قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
خطے کی کشیدہ صورتحال کے ملکی معیشت پر اثرات کے جائزے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
خطے میں کشیدگی کے معیشت پر اثرات اور قومی کفایت شعاری
وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اس اہم ترین اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، اویس لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت، وزیراعظم نے عوام کو مشکلات سے بچانے کا عزم کر رکھا ہے، عطااللہ تارڑ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کا جائزہ اجلاس
اجلاس میں سادگی اور کفایت شعاری کے اقدامات پر رپورٹ پیش
خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار، ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کیلیے مکمل تیاری رکھیں
سادگی و کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور کردار ادا کیا جس پر… pic.twitter.com/nWxxf6LyxO
— PTV News (@PTVNewsOfficial) July 16, 2026
انہوں نے زور دیا کہ جس طرح عوام نے گزشتہ سادگی مہم میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، بالکل اسی طرز پر اب ‘قومی سطح پر کفایت شعاری’ کو اپنایا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
غریب پرور پالیسی، عام آدمی اور ٹرانسپورٹرز کا تحفظ
شہباز شریف نے شرکا کو بتایا کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سبسڈی کے ذریعے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا ہے تاکہ عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشا ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو براہِ راست تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ہنگامی لائحہ عمل اور مصنوعی قلت کے خلاف گھیرا تنگ
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ مستقبل کے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔
مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا کوئی خدشہ نہیں، حکومت کی یقین دہانی
انہوں نے ضرورت پڑنے پر بروقت اقدامات اٹھانے کے لیے ایک ’جامع لائحہ عمل‘ مرتب کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ذخیرہ اندوزوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے بریفنگ دی گئی کہ ملک میں ملکی ضروریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے بھی سپلائی چین کو مکمل طور پر محفوظ بنا لیا گیا ہے۔














