پاکستان نے جی ایس پی پلس وعدوں پر عملدرآمد اور سماجی تحفظ میں تاریخی پیشرفت کی، یورپی یونین

جمعہ 17 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان نے سال 2023 سے 2025 کے دوران قانون سازی، ادارہ جاتی اور پالیسی اصلاحات کے ایک جامع سلسلے کے ذریعے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کنونشنز پر عملدرآمد میں نمایاں اور غیر معمولی پیش رفت حاصل کی ہے۔

ان اصلاحات کا دائرہ کار انسانی حقوق، لیبر رائٹس (مزدوروں کے حقوق)، انصاف کی فراہمی، گڈ گورننس اور سماجی تحفظ تک پھیلا ہوا ہے۔

یورپی یونین کی مشترکہ اسٹاف ورکنگ دستاویز ایس ڈبلیو ڈی 184 (2026) کے مطابق، یہ اصلاحات جی ایس پی پلس کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو ہم آہنگ کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی عکاس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان سب سے زیادہ مستفید ملک قرار

مجموعی طور پر یہ پیش رفت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے ایک ذمہ دار اور قابلِ قدر مستفید ملک کے طور پر برقرار رہنے اور اپنی وابستگیوں کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کی مضبوطی اور اقلیتوں کا تحفظ

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسانی حقوق کے قومی اداروں کو مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے سال 2024 میں عالمی سطح پر ’اے‘ اسٹیٹس کی ایکریڈیٹیشن (اعتماد سازی کا درجہ) حاصل کیا۔

 مزید برآں، ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ‘قومی کمیشن برائے اقلیت’ کے قیام کی قانون سازی کی منظوری دی گئی، جبکہ قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (این سی آر سی) اور قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں (این سی ایس ڈبلیو) انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل فعال اور متحرک رہے۔

سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی اور جیل اصلاحات

رپورٹ کے مطابق انصاف اور قانونی اصلاحات کے محاذ پر، پاکستان نے سزائے موت کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر محدود کرتے ہوئے اس کی فہرست سے 4 جرائم کو خارج کر دیا ہے۔

ملک میں سزائے موت پر عملدرآمد پر مروجہ تعطل کو برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ سال 2025 میں صدرِ مملکت کی جانب سے قیدیوں کی سزاؤں میں معافی (صدارتی رحم کی اپیلیں) بھی منظور کی گئیں۔

مزید پڑھیں:یورپی کمیشن کی جی ایس پی پلس رپورٹ: پاکستان بدستور سب سے بڑا مستفید ملک قرار، سال 2024 میں 732 ملین یورو کی ٹیرف بچت

اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں جیل خانوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جیل اصلاحات کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا ہے۔

خواتین و بچوں کے حقوق اور صنفی تشدد کا خاتمہ

خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان نے اہم ترین قانونی کامیابیاں حاصل کی ہیں

صنفی تحفظ

گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کا دائرہ کار اب پاکستان کے تمام صوبوں تک پھیلا دیا گیا ہے۔

تاریخی عدالتی فیصلہ

 ملک کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار صوبہ سندھ میں سال 2024 میں ازدواجی زنا بالجبرا کے مجرم کو سزا سنائی گئی۔

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تشدد کا تدارک

 ٹیکنالوجی کی مدد سے پھیلائے جانے والے صنفی تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ایک جامع حکمتِ عملی کا آغاز کیا گیا ہے۔

کم عمری کی شادیوں کی روک تھام

ملک کے متعدد دائرہ اختیار میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے اصلاحات کو وسعت دی گئی ہے۔

مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور جبری مشقت کا خاتمہ

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مزدوروں کے حقوق اور عالمی معیارات کی پاسداری کے لیے پاکستان نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے جبری مشقت کے پروٹوکول (2014) کی توثیق کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچوں سے مزدوری اور جبری مشقت کے خلاف اقدامات کو مزید سخت کیا گیا ہے، جس کے تحت چائلڈ لیبر ایکشن پلانز کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطرناک کاموں سے متعلق قوانین و ضوابط کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین جوائنٹ کمیشن کا اجلاس، جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی پیشرفت کا اعتراف

 اس کے علاوہ، اجرتوں کے نظام میں بہتری، غیر رسمی شعبے کے کارکنوں کو دستاویزی نظام میں لانے، خواتین اور اقلیتوں کے لیے روزگار کے کوٹے میں اضافے اور لیبر انسپکشن کے نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ موثر بنایا گیا ہے۔

سماجی تحفظ، تعلیمی ایمرجنسی اور صحافیوں کا تحفظ

حکومتِ پاکستان نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کے دائرہ کار کو وسیع کیا ہے۔ ملک میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے سال 2024 میں باقاعدہ ‘ایجوکیشن ایمرجنسی’ کا اعلان کیا گیا۔

تشدد کے خاتمے کے لیے انسدادِ تشدد کے قوانین و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی قانون سازی کی گئی ہے۔

مستقبل کا عزم

یورپی یونین کی دستاویز ایس ڈبلیو ڈی 184 (2026)  میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کی یہ تمام تر کوششیں انسانی حقوق، خواتین و بچوں کے حقوق، مزدوروں کے معیارِ زندگی، سماجی تحفظ، تعلیم اور گورننس کے فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے اس کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔

یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ پاکستان یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار اور قابلِ قدر شراکت دار کے طور پر رہنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات ملتوی ہونے کی خبر جعلی قرار دے دی

پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، بی وائی ڈی کی نیو انرجی گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ کراچی پورٹ پہنچ گئی

 نیٹ فلکس کے شیئرز میں 9 فیصد سے زیادہ کمی، سرمایہ کاروں کو تشویش لاحق

دہشتگردی اور لاقانونیت کا راستہ اختیار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، انتخابی قافلے پر حملے کے بعد تنویر الیاس کا بیان

’ملٹی ٹاسکنگ‘: دیپیکا پڈوکون امید سے ہونے کے باوجود شوٹنگ میں مصروف، ڈیڑھ سالہ بیٹی کی بھی دیکھ بھال

ویڈیو

کرکٹ کا سنہری باب بند، پاکستان کیخلاف 365 رنز بنانے والے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز انتقال کر گئے

سہیل آفریدی کی پولیس، غنڈہ راج عروج پر، کابینہ میں ردوبدل حقیقت یا پروپیگنڈا؟ عوام پر پیٹرول بم گرنے کو تیار

چین سے 3گنا زیادہ قیمت پر گیس کی خریداری، اسلام آباد بمقابلہ پنجاب، گندم اور آٹا عوام کی پہنچ سے باہر، مہنگائی ایران جنگ پر نہ ڈالیں

کالم / تجزیہ

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون