کراچی رینجرز کیمپ حملہ کیسے افغانستان سے شروع ہو کر جماعت الاحرار سمیت منطقی انجام تک پہنچا؟

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یہ کراچی کی تاریخ میں لکھی جانے والی ایک ایسی سنسنی خیز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تیز ترین ردِعمل کی داستان ہے، جس کے تانے بانے سرحد پار سے بننے شروع ہوئے اور روشنیوں کے شہر میں آ کر منطقی انجام کو پہنچے۔ یہ کہانی ہے بیرونی سازش، بارود اور قانون کی ایک ایسی لکیر کی، جس کے پیچھے چھپے چہرے نہ صرف اب بے نقاب ہوچکے ہیں بلکہ باہر سے آنے والے دہشت گرد مقامی سہولت کاروں سمیت انجام تک پہنچ چکے ہیں۔

سرحد پار سے کورنگی تک موت کا سفر

کہانی کا آغاز افغانستان کے تپتے پہاڑوں سے ہوتا ہے۔ ایک بند کمرے میں 4 نوجوان جانان، ہادی، عمر اور عثمان موجود ہیں۔ انہیں عام زندگی سے نکال کر جماعت الاحرار کے تربیتی کیمپ میں لایا گیا ہے۔ وہاں انہیں عام لڑائی نہیں، بلکہ ٹیکنیکل جنگ سکھائی جا رہی ہے۔ انہیں سکھایا جا رہا ہے کہ خودکش جیکٹ کیسے تیار اور استعمال کی جاتی ہے، بارود کا وزن کیسے ناپا جاتا ہے اور کسی فوجی کیمپ کو نشانہ کیسے بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی رینجرز کیمپ حملہ: سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب، مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار

گرفتار دہشت گرد کے بیان کے مطابق تربیت مکمل ہونے کے بعد وہ سرحد عبور کرتے ہیں۔ ان کے قدم پاکستان کی مٹی پر پڑتے ہیں۔ وہ طویل سفر طے کر کے پہلے بلوچستان کے علاقے حب پہنچتے ہیں، جہاں ایک بند گاڑی ان کی منتظر ہے۔ رات کے اندھیرے میں یہ گاڑی انہیں خاموشی سے کراچی کے گنجان آباد علاقے کورنگی کی ایک تنگ گلی میں اتار دیتی ہے۔

یہاں ان کا استقبال ایک ایسا شخص کرتا ہے جو بظاہر عام سا شہری ہے، لیکن اس کا اصل نام تاریخ کے سیاہ پنوں میں درج ہو چکا تھا، محمد بشیر عرف قاری بشیر۔ قاری بشیر نے ان کے لیے ایک کرائے کا مکان لے رکھا ہے۔ وہ ان کے قیام، ان کے کھانے پینے اور ان کی نقل و حرکت کا پورا انتظام کرتا ہے۔ وہ شہر کی بھیڑ میں بالکل گم ہیں، کوئی نہیں جانتا کہ اس بند مکان کے اندر موت کا سامان تیار ہورہا ہے۔

27 جون 2026

پولیس حکام کے مطابق 27 جون کو رینجرز کے ٹی سی کیمپ کے باہر معمول کی گہما گہمی تھی۔ کسی کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ اگلے چند سیکنڈ میں کیا ہونے والا ہے۔ اچانک خودکش حملہ آور جانان کیمپ کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھتا ہے۔ ایک زوردار، کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوتا ہے۔ ہر طرف دھواں، آگ اور چیخ و پکار مچ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی رینجرز کیمپ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 3 حملہ آور ہلاک، ایک گرفتار

پولیس تفتیش کے مطابق اس افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے باقی تینوں دہشتگرد ہادی، عمر اور عثمان ہتھیار لہراتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہوجاتے ہیں۔ گولیوں کی تھرتھراہٹ سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ سیکیورٹی فورسز فوری پوزیشن سنبھالتی ہیں اور پھر ایک خونریز مقابلے کے بعد حملہ آوروں کو پچھاڑ دیا جاتا ہے۔ عثمان نامی دہشت گرد زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا جاتا ہے، جبکہ باقی اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔

تفتیش کے بند کمرے اور وہ دو ویڈیوز

پولیس حکام کے مطابق اسپتال کے ایک سخت پہرے والے کمرے میں زخمی عثمان کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ سامنے سی ٹی ڈی کے تفتیش کار کھڑے ہیں۔ جب قانون کا شکنجہ کستا ہے تو عثمان کے منہ سے سچ اگلنے لگتا ہے۔ وہ جلال آباد سے لے کر کورنگی کے اس کرائے کے مکان تک کی پوری کہانی اگل دیتا ہے۔

اسی دوران سی ٹی ڈی کے ہاتھ قاری بشیر اور اس کے نیٹ ورک تک پہنچ جاتے ہیں۔ جب ان کے خفیہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جاتے ہیں تو موبائل فونز اور لیپ ٹاپس سے دو ایسی ویڈیوز برآمد ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر دہشت گرد کے دیے گئے بیان کی تصدیق ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر حملہ: پولیس نے جُرم کی منصوبہ بندی اور سہولت کار نیٹ ورک کی تفصیلات جاری کر دیں

حکام کے مطابق پہلی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک اندھیرے کمرے میں خودکش حملہ آور جانان دوسرے دہشت گرد عمر کو یہ سکھا رہا ہے کہ کیمپ پر ہٹ کیسے کرنا ہے، جبکہ دوسری ویڈیو میں دہشت گرد اپنے ہتھیاروں کو آخری بار چیک کر رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور قاری بشیر مسکراتے ہوئے انہیں گلے لگا کر موت کے سفر پر رخصت کررہا ہے۔

قانون کا حتمی وار اور نیٹ ورک کا خاتمہ

یہ محض چار لٹیرے نہیں تھے، ان کے پیچھے ایک پورا نظام تھا جسے مسمار کرنا ضروری تھا۔ سی ٹی ڈی کے ایس ایس پی عرفان بہادر اور ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں ایک خاموش آپریشن شروع ہوتا ہے۔ تار جوڑے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قاری بشیر اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ 13 مزید سہولت کار شہر کے مختلف کونوں میں بیٹھے تھے، جو انہیں لاجسٹک اور پناہ فراہم کر رہے تھے۔

یہی نہیں بلکہ سرحد پار سے ہتھیار اسمگل کرنے والا مرکزی کردار احسان اللہ بھی قانون کے ریڈار پر آجاتا ہے۔ ایک کے بعد ایک، تیرہ کے 13 سہولت کار اور اسلحہ اسمگلر دبوچ لیے جاتے ہیں۔

پریس کانفرنس کا سچ

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ میڈیا کے سامنے آتے ہیں۔ ان کے چہروں پر ایک بڑی کامیابی کا سکون ہے، لیکن آنکھوں میں سنجیدگی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، گرفتار دہشتگرد کے سنسنی خیز انکشافات

وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح اس حملے کا مقصد کراچی کے امن کو سبوتاژ کرنا تھا، کس طرح افغان سرزمین کو اس تخریب کاری کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے پیچھے پڑوسی ملک بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے۔ حکومت ایک سخت فیصلہ سناتی ہے کہ اب بغیر ویزا کے رہنے والے کسی بھی غیر ملکی کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی، انہیں ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت الاحرار نے برسوں بعد کراچی میں اپنا سر اٹھانے کی کوشش کی تھی، لیکن اس بار قانون کی تلوار اتنی تیزی سے چلی کہ سر اٹھنے سے پہلے ہی کچل دیا گیا۔ ماسٹر مائنڈ سے لے کر سہولت کار تک، اب سب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہیں۔ کراچی کا امن ایک بار پھر محفوظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب