خلیجی ملک کویت نے گزشتہ ماہ ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کیا جب اس کی تیل برآمدات 35 سال میں پہلی بار مکمل طور پر رک گئیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو کویت کی تیل ترسیل کا واحد راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئل ٹینکر پر قزاقوں کا قبضہ، یرغمال عملے میں 11 پاکستانی بھی شامل
روسی میڈیا کے مطابق کویت نے اپریل 2026 میں خام تیل کی ایک بھی بیرل برآمد نہیں کی، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔ شپنگ مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اگرچہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری رہی، تاہم برآمدات مکمل طور پر معطل رہیں۔
حکام کے مطابق 17 اپریل کو کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ’فورس میجر‘ کا اعلان کرتے ہوئے برآمدات روک دیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت مؤثر طور پر بند ہو گئی تھی۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔

کویت، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور خطے میں ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، روزانہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جس میں سے لگ بھگ 18 لاکھ 50 ہزار بیرل برآمد کیے جاتے تھے۔ ان برآمدات کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، بھارت اور جنوبی کوریا کو جاتا تھا۔
رپورٹس کے مطابق مئی 2026 کے آغاز تک کویت کی تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کویت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 50 فیصد جبکہ حکومتی بجٹ کا 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران تنازع اور ہرمز کی بندش، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
عالمی سطح پر بھی اس صورتحال کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل اور ایل این جی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے۔
ادھر ایران نے مخالف جہازوں کے لیے راستہ بند رکھا ہوا ہے جبکہ امریکی بحریہ خلیج فارس میں ایرانی بندرگاہوں کے گرد سرگرم ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف کویت بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے، جبکہ توانائی کی فراہمی اور قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے۔














