امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی سلامتی سے متعلق اہم تقریر کو امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اپنے مرکزی نشریاتی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے منظم سازش قرار دیا اور متعلقہ نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب میں انتخابی نظام کی سلامتی سے متعلق خفیہ دستاویزات منظر عام پر پیش کیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت، الیکٹرانک ووٹنگ سسٹمز کی کمزوریاں اور دیگر حساس معلومات موجود ہیں۔
🚨 UPDATE: CNN has JOINED ABC, NBC and CBS in REFUSING to air Donald Trump's 9PM White House address — they'll instead stream it elsewhere and "monitor" the speech for "news" in case they need to cut in
"Experts" will be on standby to "analyze" it — meaning PANIC and try to… pic.twitter.com/Gl4Y1C1BOk
— John f Kennedy Jr (@Real_Jfkennedjr) July 17, 2026
تاہم امریکا کے بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، این بی سی اور سی این این نے اس خطاب کو اپنے مرکزی ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر نہیں کیا۔ ان اداروں نے تقریر کو صرف اپنی اسٹریمنگ سروسز، ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک محدود رکھا، جن کے ناظرین روایتی ٹی وی چینلز کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ دوسری جانب سی بی ایس اور فاکس نیوز نے صدر کا خطاب براہِ راست نشر کیا، تاہم سی بی ایس نے دورانِ نشریات ٹرمپ کے بعض دعوؤں کی تردید بھی کی۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران کہا کہ تقریر نشر نہ کرنے والے میڈیا ادارے ایک ’سازش‘ کا حصہ ہیں اور ایسے فراڈ پر ان کے نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیے جانے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے ’ٹروتھ سوشل‘ کی پیرنٹ کمپنی ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کو بڑا مالیاتی خسارہ، وجہ کیا بنی؟
رائٹرز کے مطابق میڈیا ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت نشریاتی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ادارتی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں کہ کون سا مواد نشر کرنا ہے، تاہم ماضی میں قومی اہمیت کے صدارتی خطابات عموماً براہِ راست نشر کیے جاتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی نیٹ ورکس پر زور دیا تھا کہ وہ اس خطاب کو براہِ راست نشر نہ کریں، کیونکہ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایک بار پھر 2020 کے انتخابات سے متعلق وہی دعوے دہرا سکتے تھے جنہیں متعدد تحقیقات اور امریکی انٹیلیجنس ادارے مسترد کر چکے ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی میڈیا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے، جبکہ وفاقی مواصلاتی کمیشن کی جانب سے بعض نشریاتی اداروں کے خلاف مختلف تحقیقات بھی جاری ہیں۔














