روس نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے، جہاں شیر خوار بچوں کی بلند شرحِ اموات اور پولیو کے پھیلاؤ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں سیاسی اور انسانی بحران شدت اختیار کر گیا، این آر ایف
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 اور 2026 کے دوران افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پولیو کے 21 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ ان علاقوں میں 10 سال سے کم عمر بچوں کی بڑی تعداد کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگ سکی۔
Russia Warns of Worsening Humanitarian Crisis as Polio Cases Rise in Afghanistan https://t.co/PdlEx7zzkN #Khaama #Afghanistan
— Eye on Afghanistan (@EyeOnAfgh) July 16, 2026
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے، جہاں ہر ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں 33.1 بچوں کی موت واقع ہوتی ہے، جو عالمی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔
ماریا زاخارووا نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کا ذمہ دار مغربی ممالک کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی امداد کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کے باعث بحران مزید گہرا ہوا ہے۔
ویدیو: سخنگوی وزارت خارجهی روسیه وضعیت بشری در افغانستان را وخیم خوانده و افزوده که مرگومیر بالای نوزادان، گسترش بیماری فلج از مهمترین نگرانیهای مسکو بهشمار میرود.
گزارش از هدیه ضیائی#طلوعنیوز pic.twitter.com/QniKwNpAPU
— TOLOnews (@TOLOnews) July 17, 2026
ان کے مطابق مغربی پابندیوں کے نتیجے میں افغانستان کے لیے انسانی امدادی پروگراموں کی فنڈنگ میں کمی آئی، جبکہ افغان اثاثوں کے منجمد رہنے کے باعث حکومت کو مالی وسائل استعمال کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
روسی ترجمان نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے لیے انسانی امداد کو سیاسی معاملات سے الگ رکھیں تاکہ ضرورت مند افراد تک امداد مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق نئے قواعد پر تشویش، طالبان کی قانونی منظوری کا دعویٰ
واضح رہے کہ روس دنیا کا واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے صوبوں ننگرہار، ہلمند اور ہرات میں پولیو کے 4 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
ان نئے کیسز کے بعد 2026 کے آغاز سے افغانستان میں پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔














